Posts

محترم شعیب خان نیازی کی عیادت کے لئے لیہ سے اختر خان کی قیادت میں لاہور نیازی صاحب کے گھر تشریف لائے

 محترم شعیب خان نیازی کی عیادت کے لئے لیہ سے اختر خان کی قیادت میں لاہور نیازی صاحب کے گھر تشریف لائے

،،جنوبی پنجاب کی بھٹہ انڈسٹری تباہی کے دہانے پر،، بھٹہ انڈسٹری گزشتہ 4 سالوں سے مختلف مسائل سے دوچار ہے ان مسائل سے جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان حد درجہ تک مثاثر ہیں جبکہ اپرپنجاب کی صورتحال ان سے مختلف ہے کیونکہ وہاں 80فیصد سے زائد بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کے فیصلے کو ہی حتمی فیصلہ قرار دیتے ہیں اور اسی پر عمل کرتے ہیں جس کی بدولت وہاں کے بھٹہ مالکان مالی طور پر زیادہ مستحکم ہیں جبکہ اسکے برعکس جنوبی پنجاب میں یہ صورتحال قدرے مختلف ہے یہاں 40فیصد سے زائد بھٹہ مالکان وہ ہیں جو 2010 کے سیلاب کے بعد اس انڈسٹری سے منسلک ہوے اس سے قبل جنوبی پنجاب میں بھٹہ انڈسٹری کوئی خاطرخواہ نام نہ بناسکی تھی سواے ملتان کے بلکہ اس سے قبل جنوبی پنجاب میں بھٹوں کی کچھ خاص تعداد بھی زیادہ نہیں تھی مظفرگڑھ جنوبی پنجاب کا ایسا ضلع تھا جہاں 2010ء کے بعد بہت تیزی سے کم ہی عرصہ میں بڑی تعداد میں نئے بھٹے تعمیر ہوے جس کی مثال نہیں ملتی اسی کے ساتھ ملتان کی تحصیل شجاع آباد بھی اس طرح ثابت ہوئی اور باقی اضلاع میں بھی بھٹہ انڈسٹری کو بہت تیزی سے ابھرتے دیکھا جبکہ ڈیرہ غازی خان ایک ایسا ضلع تھا جہاں بھٹہ انڈسٹری کی مارکیٹ کم ہوگئی اس کی وجہ وہاں اینٹ کی تیاری بھٹے کے بجاے آوی سسٹم آگیا مگر آج بھی بھٹے وہاں موجود ہیں اور اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوے ہیں 2010ء سے قبل جنوبی پنجاب میں ملتان کو ہی بھٹہ انڈسٹری کے حوالے سے اہمیت کا درجہ حاصل تھا جو تاحال دم توڑتا ہوا مگر موجود ہے جنوبی پنجاب میں بھٹہ انڈسٹری کی اس قدر ترقی اور نئے لوگوں کی آمد یقیناء انڈسٹری کیلئے نیک شگون کا باعث تھی مگر جنوبی پنجاب میں بھٹہ انڈسٹری کی اس تیزی سے عروج جہاں بہت ہی خوش آئند تھا وہی مستقبل میں بھٹہ انڈسٹری پر خطرے کے بادل منڈلانے کے بھی امکانات واضع ہونا شروع ہوگئے تھے جیسے صرف وہ ہی بھٹے مالکان محسوس کررہے تھے جو جنوبی پنجاب میں عرصہ دراز سے اس انڈسٹری سے وابستہ تھے وہ خطرہ تھا انڈسٹری میں بھٹے انڈسٹری سے ناواقف وہ لوگ جو اپنی پراپرٹی اپنی شاپس وگاڑیاں و دیگر اشیاء فروخت کرکے تین تین چار چار افراد مل کر بھٹے کے پارٹنر بنے چونکہ اس وقت انڈسٹری عروج میں تھی کم سرمایہ سے ہی کام الحمداللہ اچھا شروع ہوا آگے آگے وہ پارنٹر بھی اپنا اپنا بھٹہ تعمیر کرتے رہے اور الگ ہوتے رہے یوں محض 6سالوں میں ہی ہر ضلع میں اینٹوں کے بھٹوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ جنوبی پنجاب میں ترقیاقی کاموں کی رفتار اپرپنجاب کی نسبت بہت کم تھی جبکہ دوسری جانب آل پاکستان بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن آف پاکستان جب بھی اہم ایشو پر متحد ہوتی تو پورے ملک سے جنوبی پنجاب ایسا علاقہ ہوتا تھا جو مرکزی تنظیم کے فیصلوں کی نفی کرتا اس کی وجہ لاہور سے کوئی ضدانا تعصب نہیں بلکہ ناسمجھی اور وہ نان ایکیٹو لوگ جو بھٹہ انڈسٹری سے واقف ہی نہیں تھے اور بھٹہ انڈسٹری کے عروج کے وقت میں اس میں داخل ہوے وہی لوگ ہی اس کے ذمہ دار ہیں اور یہ دن جنوبی پنجاب کے سئینر بھٹہ مالکان بہت پہلے سے جانتے تھے مرکزی ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت سے ہربات پر ناں کی طویل جنگ کے بعد پہلی بار زگ زیگ کے معاملے پر لچک دیکھائی اور بدلے میں حکومت سے انڈسٹری کیلئے زبردست مراعات لینے کے موڈ میں تھی مگر پورے پاکستان سے جنوبی پنجاب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا مگر حکومت نے کرنی اپنی ہی مرضی تھی انہوں نے کرکے دیکھا مگر ہم نے ایسوسی ایشن کے کہنے پر کچھ نہ کیا اور حکومت سے انڈسٹری کیلئے لے جانے والے مراعات سے بھی محروم رہے آج ہماری کمزوری کا فائدہ دیکھتے ہوے ہم پر کوئلہ مافیا من مانیا کررہاہے مگر ہم بے بس ہیں ہم اس قدر بےبس ہیں کہ اپنے بھٹے کیلئے لیا جانے والا کوئلہ بھی وزن سے نہیں لے سکتے ہم اس قدر بےبس ہیں کہ جب دل کرے وہ ریٹ کوئلہ کا بڑھا دیں ہم کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم نے متحد نہ ہونے کی قسم جو کھائی ہے جس کا مافیا کی جانب سے پھرپور فائدہ لیاجارہاہے مہرعبدالحق صاحب بھٹہ انڈسٹری کے ایک ذہن ترین اور انڈسٹری کے مستقبل پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت ہیں جولائی 2021 میں انہوں نے ملتان دورے کے دوران ہمیں بتایا ، ، میں جو منظر دیکھ رہا ہوں اللہ کرے ایسا نہ ہو جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان نے اگر اپنا جلد بلاک نہ بنایا تو یہ اگلے سال تک اپنے اپنے بھٹے فروخت کرنا شروع کرینگے کیونکہ جنوبی پنجاب میں کنسٹریشن کا کام بالکل زیرو ہونے والا ہے اور انہوں نے بھٹے بند کرنے نہیں جبکہ اپر پنجاب کی بھٹہ مالکان خوشحالی کی جانب بڑھیں گئے ،، انکے یہ الفاظ مجھے وقتی طور پر تو عجیب لگے مگر میرے ذہن میں نقش ہوکر رہ گئے آج 5ماہ گزر گئے ہیں آج میں واقعی دیکھ رہا ہوں جنوبی پنجاب میں بھٹہ انڈسٹری کی ابتر صورتحال دن بدن سامنے آتی جاری ہے کیا زگ زیگ کیا سادہ بھرائی والے سب بھٹہ مالکان شدید پریشان ہیں 40فیصد سے زائد جنوبی کے بھٹے بند ہیں کوئلہ بورہ ودیگر میٹریل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ اینٹ کے نرخ انتہائی تیزی کے ساتھ کم ہوگئے ہیں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے بھٹے والوں کی ٹرالیاں روڈوں چوکوں میں کھڑی ہیں اور گاہگ نہیں ہے ٹرالیوں کی سیل لگی ہوئی ہے نرخ دن بدن کم ہوتے جارہے ہیں جبکہ مزدوری اور میٹریل دن بدن اضافہ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان کی وہ واحد انڈسٹری جس میں مال بنانے کے میٹریل کی نرخ بڑھیں اور ضرورت کی چیز سستی ملے تو بھٹہ انڈسٹری ہی کہونگا کیونکہ چاہیے کوئلہ بورہ آسمان کو پہنچ جاے ہم نے عوامی خدمت کرنی ہے اور اینٹ کی قیمت کم سے کم کرنی ہے تاکہ جلداز جلد انڈسٹری سے انخلاء ممکن ہو، افسوس صد افسوس میری تحریر بھی شاید آپکو نہ جاگا سکے مگر اب بھی وقت ہے جنوبی پنجاب کے بھٹہ والوں جلدازجلد اپنے اپنے اجلاس طلب کرو اور بھٹوں کو بند کرنے کا اعلان کرو بلوچستان والے بھی 6ماہ بند کرکے ہم سے زیادہ منافع لے رہے ہیں کے پی کے والوں نے بھی توے مافیا کے منہ پر دے مارے ،اب وقت آگیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان جاگ جائیں یقین کریں آپ کے دوست انڈسٹری سے نکل رہے ہیں یہ انخلاء خوشی کا باعث نہیں بلکہ ہماری تباہی کا باعث ہے لہذا اب بھی وقت ہے ہمیں جلد ازجلد جنوبی پنجاب کا بلاک بناکر مستقبل میں انڈسٹری کو بچانا ہے نہ پریشان ہو لاہور سیالکوٹ فیصل آباد ننکانہ صاحب گجرات والوں نے نہیں اینٹوں پہنچانی یہاں ،انکی وہی سیل زیادہ ہے ہمیں تو بھٹہ انڈسٹری کے حوالے سے بہت اچھا علاقہ ملا ہے اپرپنجاب جتنی مرضی ہڑتال کو طول دے دیں آپکی وہاڑی کی اینٹ ہی سیالکوٹ کو پوری کردیتی ہے جبکہ ہمیں یہاں ڈیرہ غازی خان ملتان مظفرگڑھ شجاع آباد لیہ بھکر وہاڑی خانیول لودھراں بہالپور رحیم یار خان میں اپرپنجاب نے اینٹ نہیں دینی ، آپ کا ایک مضبوط بلاک ہی جنوبی پنجاب میں انڈسٹری کے مضبوط وجود کو برقرار رکھ سکتاہےمجھے امید ہے جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان اس میسج کو سنجیدگی سے لینگے اور اسے شیئر بھی کرینگے اللہ تعالی ہمارے درمیان اتحاد پیدا کرے اور نفرتوں کا خاتمہ کرے ، آمیناظہرخان ،ملتان

Image

*بھادوں کی حیرت انگیز معلومات

Image
*بھادوں کی حیرت انگیز معلومات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔ #بابا_گُرو_نانک جو سکھوں کے سب سے بڑے #گُرو ہیں اپنی کتاب #گُرو_گرنتھ صاحب میں لکھتے ہیں کہ "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔ روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں ( #ویساکھ، #جیٹھ، #ہاڑ، #ساون، #اسو، #کتک، #مگھر، #پوہ...

*اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔*

Image
*اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کردی ہے۔* گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کے لئے محکمہ موسمیات کی جانب سے بارشوں کی نوید سنا دی گئی ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی شام یا رات سے بدھ کے دوران ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں مزید مون سون بارشوں کی توقع ہے، جب کہ پیر سے بدھ کے دوران شدید طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی رات سے مون سون ہوائیں شدت کے ساتھ ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوں گی، جس کے باعث اتوار کی شام یا رات سے بدھ کے دوران کشمیر، اسلام آباد، راولپنڈی ، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، منڈی بہاؤلدین، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، شیخوپورہ، قصور، اوکاڑہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، دیر، سوات، بونیر، کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، مردان، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، وزیرستان، کرم، بنوں، کوہاٹ، لکی مروت،  ٹانک، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان اور گلگت بلتستان (غذر، استوار، دیامر، اسکردو، گلگت، ہنزہ نگر، گانچی اورخرمنگ) می...

پنجاب ‏کا ‏موسم

Image
خ اِجرا:  16 جولائی 2021, 10:30 جمعه کے روز  بلوچستان اور سندھ میں تیزہواؤں اور گرج چمک کےساتھ مزید بارش کی توقع ۔ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ ہفتہ کے روز  جنوب مشرقی بلوچستان، سندھ، کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں چند مقامات پر دن کے اوقات میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کےساتھ مزید بارش کی توقع ۔ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ گذشتہ 24 گھنٹے کا موسم  ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا۔تاہم سندھ، بلوچستان اورگجرات میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔ سب سےبارش (ملی میٹر): سندھ: کراچی (گلشن حدید 70، پی اے ایف فیصل 37،پی اے ایف مسرور 36، ناظم آباد 35، سر جانی ٹاؤن ، ایم او ایس 27، نارتھ کراچی 20، کیماڑی 18، جناح ٹرمینل 17، لانڈھی 16، سعدی ٹاؤن 15، یو نیورسٹی روڈ 13)، بدین 42، ٹھٹہ 38، ڈپلو 24، چھور 18، نگر پارکر 17، مٹھی 15، چھا چھرو 13، ڈھا لی ، کلوئی10، اسلام کوٹ 09، حیدر آباد،ٹنڈو جام 03، سکرنڈ 02، میر پور خاص،دادو 01، بلوچستان: دالبندین 19،لسبیلہ 13،اورماڑہ 11، تربت 07،مسلم باغ 01 اور پنجاب: گجرات میں 04ملی میٹر بارش ریک...

11/7/2021 موسم اپڈیٹ

Image
*#پنجاب__کا__موسم!* *پنجاب والو تیاری کر لو 2 روز بعد بارشیں ہی بارشیں* #انشاءاللہ  *مون سون بارشوں کے پہلے اور طاقتور سلسلے کا باقاعدہ آغاز 11 جولائی بروز اتوار سے ہونے جا رہا ھے مگر آج رات سے مون سون ہوائیں بالائی پنجاب میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گی جس کے باعث جمعے اور ہفتے کے دوران راولپنڈی، گوجرانولہ اور لاہور ڈویژن سمیت شمالی اور شمال مشرقی پنجاب کے چند علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ھے اتوار رات سے مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ پنجاب کے بالائی اور وسطی علاقوں پر اثرانداز ہوگا مون سون اور مغربی ہواؤں کے ملاپ سے اتوار سے بدھ کے دوران پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ #موسلادھار بارشوں کا امکان ھے اتوار سے بدھ کے دوران مری، اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، میانوالی، سرگودھا، چکوال، جہلم، کھاریاں، منڈی بہاوالدین، گجرات، گوجرانولہ، سیالکوٹ، ناروال، لاہور، شیخوپورہ، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، چنیوٹ، نورپورتھل، لیہ، بھکر، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور، بہاولنگر، بورے والہ، ڈیرہ غازی خان، فتح پور، ملتان، مظفرگڑھ کے ب...

مرکزی قیادت کا کامیاب دورہ ملتان،،، برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی وائس چیئرمین مہرعبدالحق صاحب لاہور ڈویژن کے صدر رانا سبحان صاحب بروکس پاکستان کے کنٹری منیجر نعیم عباس شاہ صاحب 4روزہ دورہ ملتان ۔مکمل کرکے لاہور روانہ ہوگئے یہ دورہ جانوروں کی حققوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم بروکس پاکستان کے زیراہتمام پاکستان میں بھٹوں پر کام کرنے والے جانوروں کے تحفظ اور علاج معالجے پر کام کررہی ہے جو دو روز لگار تار رمادا ہوٹل ملتان میں جاری رہا پہلے روز اجلاس میں ملتان کے بھٹہ مالکان شریک ہوے اور بروکس پاکستان کے مشن کو سمجھا اور اس پر اسی دن عمل شروع کیا دوسرے دن جنوبی پنجاب کے اضلاع کے بھٹہ مالکان اجلاس میں شریک ہوے اور بروکس پاکستان کے موقف کو سمجھا اور ان کے مشن کو اپنانے کا اعادہ کیا یہ دورہ بروکس پاکستان کے ساتھ ساتھ برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے قائدین کیلئے جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان سے تنظیمی اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم ثابت ہوا جہاں بروکس پاکستان کے مشن کو بھٹہ مالکان نے سمجھا وہی برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن اور اس کی افادیت کو اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کو سیکھنے سمجھنے کیلئے قیادت کی جانب سے جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان کو ہرممکن تعاون کی پیشکش کی گئی جیسے بھٹہ مالکان کی جانب سے بہت سراہا گیا اس کے علاوہ ملتان میں تنظیمی حوالے سے دورہ بھی کیے جس میں ملتان میں اظہرخان کا نئے تعمیر ہونے والے ملتان کے ماڈل زگ زیگ بھٹے کا افتتاح کیا گیا اور ملتان اور جنوبی پنجاب سے آے بھٹہ مالکان سے انکے اضلاع میں بھٹہ انڈسٹری کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی اور بہتر منصوبے زیر غور آے اس کے علاوہ شجاع آباد میں خضرخان جگوال صاحب کے ماڈل زگ زیگ بھٹے کا وزٹ کیا اور وہاں پر شجاع آباد سے بھٹہ انڈسٹری کی اہم شخصیت شجاع آباد کی پہچان انعام اللہ خان مگسی صاحب سے رات کے کھانے پر خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی اور ملتان اور اردگرنواح میں بھٹہ مالکان کے مسائل پر اہم مشاورت ہوئی اور ایک دوسرے کے تجربات سے استعفادہ حاصل کیا لہذا ہم اسے برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مرکزی قیادت کا ملتان کا کامیاب دورہ قرار دیتے ہیں کہ کم وقت میں بہت زیادہ ورک کیا گیا جو قابل تحسین ہے ہم برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے قائدین اور بروکس پاکستان کے نعیم عباس شاہ صاحب کو ملتان آمد اور جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان کو تنظیمی و فلاحی آگاہی دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں، منجانب،، برک کلن اونرز ایسوسی ایشن ملتان رپورٹ اظہرخان

Image
 مرکزی قیادت کا کامیاب دورہ ملتان،،، برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی وائس چیئرمین مہرعبدالحق صاحب لاہور ڈویژن کے صدر رانا سبحان صاحب بروکس پاکستان کے کنٹری منیجر نعیم عباس شاہ صاحب 4روزہ دورہ ملتان ۔مکمل کرکے لاہور روانہ ہوگئے یہ دورہ جانوروں کی حققوق کیلئے کام کرنے والی تنظیم بروکس پاکستان کے زیراہتمام پاکستان میں بھٹوں پر کام کرنے والے جانوروں کے تحفظ اور علاج معالجے پر کام کررہی ہے جو دو روز لگار تار رمادا ہوٹل ملتان میں جاری رہا پہلے روز اجلاس میں ملتان کے بھٹہ مالکان شریک ہوے اور بروکس پاکستان کے مشن کو سمجھا اور اس پر اسی دن عمل شروع کیا دوسرے دن جنوبی پنجاب کے اضلاع کے بھٹہ مالکان اجلاس میں شریک ہوے اور بروکس پاکستان کے موقف کو سمجھا اور ان کے مشن کو اپنانے کا اعادہ کیا یہ دورہ بروکس پاکستان کے ساتھ ساتھ برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے قائدین کیلئے جنوبی پنجاب کے بھٹہ مالکان سے تنظیمی اور زگ زیگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے اہم ثابت ہوا جہاں بروکس پاکستان کے مشن کو بھٹہ مالکان نے سمجھا وہی برک کلن اونرز ایسوسی ...

بروک پاکستان اور برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف ملتان کے زیر اہتمام میٹنگ ‏🌹🌹ملتان #رمادا_ہوٹل میں بروک پاکستان کے زیراہتمام برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف ملتان کی جانوروں کے حققوق پر ایک اہم میٹنگ جس میں ملتان بھر کے چاروں تحصیلوں سے بھٹہ مالکان نے شرکت کی اجلاس میں برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مرکزی وائس چیئرمین #مہرعبدالحق صاحب لاہور ڈویژن کے صدر #رانا_سبحان صاحب بروک پاکستان کنٹری مینجر نعیم عباس شاہ صاحب میٹنگ میں شریک ہوے #ملتان سے برک کلن اونرز ایسوسی ایشن ملتان کے صدر #نذرخان صاحب تحصیل #شجاع_آباد کے صدر #اشرف_خان صاحب تحصیل #جلالپور_پیروالاسے صدر #سیٹھ_لطیف صاحب نائب صدر #ملک_عقیل_کھرل_ صاحب جنرل سیکرٹری خواجہ #ساجد صاحب ویگر ساتھی اور ملتان کے بھٹہ مالکان نے شرکت کی اجلاس میں بروک پاکستان کے نمائیندوں نے شرکاء کو بھٹوں پر کام کرنے والے جانوروں کے تحفظ کے مطلق بریفنگ دی اور بھٹوں پر کام کرنے والے جانوروں ورکرز کیلئے میڈیسن بکس کو ضروری قرار دیا اور اسے کے استعمال اور فوائد کو بھٹہ مالکان کے ساتھ شئیر کیا برک کلن اونرز ایسوسی ایشن ملتان کے صدر نذرخان صاحب نے بروک پاکستان برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کے مرکزی قائدین اور آنے والے تمام بھٹہ مالکان کا شکریہ ادا کیا اجلاس کے آخر میں بروک پاکستان کے زیراہتمام پرتکلف ظہرانہ دیا گیا🌹🌹رپورٹ بشکریہ،،،،،#اظہرالدین_خان#PBNews ‎#kilns_bricks ‎#multan

Image

پیارے برک کلن مالکان! آج ، میں آپ کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اینٹ بنانا قدرے مشکل اور بعض اوقات خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی بہت سی دیگر صنعتوں سے بھی آسان ہے۔ یہ خاص طور پر سچ ہے اگر آپ نیا زگ زگ طریقہ اپناتے ہیں۔ آئیے فرق معلوم کرنے کے لئے پرانے اور زیگ زگ طریق کار کا موازنہ کریں۔ روایتی طریقہ میں ، اسٹیکنگ دو کچی اینٹوں پر کی جاتی ہے۔ جبکہ زیگ زگ بھٹہ دیوار کی طرح رنگا ہوا ہے۔ پرانے طریقہ کار میں ستون کا پورا وزن صرف دو اینٹوں پر ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹوٹ جاتی تو سارا ستون بیٹھ جاتا۔ زیگ زگ اسٹیکنگ میں صرف 40 ڈگری درجہ حرارت سے نیچے کی لکیر کا رخ تبدیل کرنا ہوتا ہے ، جو روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کہیں کم خطرناک ہے۔ جبکہ پرانے طریقہ کار میں ، مزدور کو 80 ڈگری سنٹی گریڈ کے سکشن ہول میں داخل ہونا پڑا ، جہاں کارکنوں کو لکڑی کے جوتےے پہنائے گئے ہوتے تھے۔ پرانے بھٹے نے آس پاس کی تمام آبادی کو آلودہ کردیا ، جلایوں کے لباس کاربن دھواں اور دیگر گیسوں سے کالے ہوگئے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ زہریلی گیسیں انسانوں ، جانوروں اور کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ زیگ زگ 30 سے ​​35٪ کم کوئلہ اور دیگر ایندھن استعمال کرتا ہے ، جس سے لوگوں کی عمر اور آپ کی جیب کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 20 ملین ٹن کوئلہ بھٹوں سے خرچ ہوتا ہے۔ زیگ زیگ کوئلے کے حجم کو 6 ملین سے 7 ملین ٹن سالانہ تک کم کرتا ہے ، جس سے انفرادی یا قومی سطح پر بھی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح ، لکڑی اور آگ جلانے والے دیگر سامان کو بھی تناسب سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ دل کے مکمل اطمینان کے ساتھ زیگ زگ کو مکمل طور پر شفٹ کروں۔ ہماری آئندہ نسلوں کو دیکھنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے ، جو صرف زیگ زگ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے کام کرنے کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے گیجٹس بھی متعارف کروانا چاہئے۔ ہم نے اپنے بھٹوں پر خطرے والے عوامل اور خطرات کو کم کرنے کے لئے ایک بچاؤ اور تکنیکی کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم اپنی تجاویز اس کمیٹی کو ارسال کریں کہ ہم بھٹوں میں ہونے والے ناخوشگوار حادثات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ، ناخوشگوار حادثات شرمناک اور جعلی این جی اوز کے ذریعہ پھیل جاتے ہیں تاکہ ہماری برادری کو بدنام کیا جاسکے۔ لہذا ، ہمیں جلد از جلد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کاش ہم متاثرہ مزدوروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کریں۔ میں بھی اس ضمن میں آپ کی تجاویز سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر معاشرتی برائیاں ہیں۔ ہم اپنے ملک سے چلڈرن لیبر ، بندہ مزدوری ، آلودگی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ نام نہاد این جی اوز ، اپنے ذاتی مفادات کے تحت ، دنیا میں پہلے ہی ہمیں بدنام کر چکی ہیں۔ میں نے بار بار حکومت ، آئی ایل او ، ہیومن ریسورس کارکنوں ، وزارت محنت اور دیگر آزاد مبصرین کو حقائق کی تلاش کرنے والی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی دعوت دی ہے ، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں ، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جاسکے اور ہمارے ساتھ غیر منصفانہ پروپیگنڈہ کیا جائے۔ غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا - مبالغہ آمیز پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے کے بجائے ، انہیں زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے آنا چاہئے جو بالکل مختلف ہیں۔ ہم ایسی کسی بھی کمیٹی کے ساتھ پورے دل سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ ڈونر ایجنسیوں ، حکومت ، اور آئی این جی اوز کو مکمل طور پر ان لعنتوں سے نجات دلانے کے لئے ہماری سہولت کے لئے آنا چاہئے۔تحریر ،، محمد شعیب خان نیازی چیئرمین (بی کے او اے پی)

Image

بھٹہ کاروبار تھوڑا مشکل ہے کچھ خطرناک بھی ہے مگر بہت سی انڈسٹریز سے بہت زیادہ آسان ہے ھم آج پرانے اور زگ زیگ کا مقابل کریں گے بھرائی میں پرانے بھٹہ میں پائے نیچے دو کچی اینٹ سے رنگائی کی جاتی ہے جبکہ زگ زیگ بھٹہ میں ایک دیوار کی طرح رنگائی ہوتی ہے پرانے کے پائے کا ساراوزن دو اینٹ پر ھوتا ہے ایک اینٹ بیٹھ جائے تو پورے پایا بیٹھ جاتا ہے۔زگ زیگ بھرائی میں لائین بدلنے میں شنٹ بدلنا ہے جو کسی طرح بھی کام کر نے والوں کے لئے خطرناک نہیں ہےجبکہ پرانہ بھٹہ میں ہرکھٹہ بند کرنا یاکھولنے پر مزدور جھلستے تھےزگ زیگ میں بھٹہ کے اوپر اگ کی گرمی بہت کم ہوتی ہےپرانے بھٹہ پر اتنی زیادہ گرمی ہوتی ہے کہ لکڑی کی کھڑاوان بھی جل جاتی تھیں پرانےبھٹہ میں کاربن اور دوسری گیسسن کی گندگی اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ اردگرد کی آبادیوں اور بھٹہ پر رہائشی افراد کا صبح تک سارا جسم اور کپڑے کالے ہوتے تھے آپ اندازہ لگا سکتے ان زہریلی گیس سے انسانوں جانوروں کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچتا ہوگازگ زیگ میں کوئلہ اور دوسرا ایندھن 30 سے 35 % کم خرچ ہوتا ہے اس سے ملک کے ذخائر میں فائدہ ہےپاکستان میں دو کروڑ ٹن صرف کوئلہ سالانہ بھٹون پر خرچ ہوتا ہے زگ زیگ کی وجہ سے60 لاکھ سے 70 لاکھ ٹن کوئلہ سالانہ کم خرچ ہوگااسی طرح دوسرا ایندھن لکڑی اور دوسرے جلنے والے چیزیں بھی اسی مقدار میں بچت ہو گیآپ زگ زیگ کریں ملک اور انسانیت اور انرجی سیونگ سے ملک کو فایدہ ہےھمیں اپنے بھٹوں کو انسانوں کی صحت اور حفاظت کے مطابق ڈھالنا ہے اس کے لئے ٹیکنکل کمیٹی تشکیل کریں گے اور آپ سے درخواست ہے کہ آپ اپنی تجاویز اس کمیٹی کو دیں مجھے امید ہے ھم اپنے بھٹوں کو محفوظ اور صحت مند اورماحول دوست ہر لحاظ سے بنائیں گے اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو،،،تحریرمحترم شعیب خان نیازی،،

Image

جہاں پر زگ زیگ کی خوبیاں ہیں وہی نقصانات بھی ہیں..مذکورہ واقعہ زگ زیگ کے نقصانات کی کڑی ہے...پرانی طرز میں آگ پایوں میں ہی رہتی تھی ..آگ کے قریب والے کھڈے اینٹوں سے بند ہوتے تھے..اور آگ کھڈوں میں نہیں بلکہ بھٹے کی بھرائی میں یعنی پایوں میں موجود رہتی تھی..بھرائی میں صرف نمبر ہی خطرناک ہوتا تھا اور ہر مزدور اس سے واقف ہوتا تھا..جبکہ زگ زیگ میں آگ کے ساتھ والے کھڈے بھی اوپن ہوتے ہیں اور ان میں آگ موجود ہوتی ہے کھڈوں کے اوپر رکھے گئے سیمنٹی بلاک ہی آگ سے بچا سکتے ہیں جبکہ سیمنٹ آگ کو برداشت کرنے میں کمزور ہے...اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اس وجہ سے زگ زیگ کو کوسہ جائے..خطرات ہر کام میں موجود ہوتے ہیں..روزانہ روڈز پر ہزاروں ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں..ہلاکتیں بھی معمول ہیں ..کیا اس وجہ سے روڈ پر جانے اور سفر کرنا ترک کر دینا چاہیے ہرگز نہیں..بلکہ احتیاط کی جاتی ہے...حادثے سے بچنے کی اپنے طور بھرپور کوشش کی جاتی ہے..ایسے ہی زگ زیگ کے معاملے میں کرنا ضروری ہے...غیر متعلقہ بندوں کو بھٹے پر چڑھنے ہی نا دیں ..اپنی لیبر میں آگاہی پیدا کریں..انہیں زگ زیگ کے کھڈوں کے خطرناک ہونے کا تفصیل سے بتائیں...باقی اللہ رحم کرے گا...عمران سیال

Image
شیخوپورہ: ٹیوب ویل نمبر 5 ہاؤسنگ کالونی میں 13 سالہ بچہ اینٹوں والے بھٹے میں گر گیا-    بھٹے میں گرنے سے بچہ جھلس کر موقع پر بھی جاں بحق ہو گیا- ریسکیو 1122 نے بھٹے میں آگ کنٹرول کر کے بچے کی جھلسی ہوئی لاش کو نکال کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ منتقل کر دیا-    :جھلسنے ولاے بچے کی شناخت 13 سالہ عمیر کے نام سے ہوئی ہے,,،،،،،، تحریر  عمران سیال،، جہاں پر زگ زیگ کی خوبیاں ہیں وہی نقصانات بھی ہیں..مذکورہ واقعہ زگ زیگ کے نقصانات کی کڑی ہے...پرانی طرز میں آگ پایوں میں ہی رہتی تھی ..آگ کے قریب والے کھڈے اینٹوں سے بند ہوتے تھے..اور آگ کھڈوں میں نہیں بلکہ بھٹے کی بھرائی میں یعنی پایوں میں موجود رہتی تھی..بھرائی میں صرف نمبر ہی خطرناک ہوتا تھا اور ہر مزدور اس سے واقف ہوتا تھا..جبکہ زگ زیگ میں آگ کے ساتھ والے کھڈے بھی اوپن ہوتے ہیں اور ان میں آگ موجود ہوتی ہے کھڈوں کے اوپر رکھے گئے سیمنٹی بلاک ہی آگ سے بچا سکتے ہیں جبکہ سیمنٹ آگ کو برداشت کرنے میں کمزور ہے... اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ اس وجہ سے زگ زیگ کو کوسہ جائے..خطرات ہر کام میں موجود ہوتے ہیں..روزانہ روڈز پر ہز...

مریم اورنگ زیب صاحبہ فرما رہی تھیں کہ جناب شہباز شریف صاحب نے بھٹہ مزدور بچوں کا وظیفہ منظور کیا تھا جو موجودہ حکومت نے ختم کردیا،،یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے کہ اچانک جناب خادم اعلی کو بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کا درد اٹھا اور ہیڈ پہن کر ھیلی کاپٹر پر سوار ہو کر شوبدہ بازی کرتے ہوئے کسی بھٹہ پر اترتے اور وہاں کھیلتے بچوں کو پکڑتے اور بھٹہ ملک پر پرچہ کرتے پولیس وین میں پھیکتے بےعزتی کے ساتھ گھسیٹتے ہوے حوالات میں پھیکتے،،اور پوری دنیا میں یہ جعلی چائلڈ لیبر کا پرپیگنڈہ کر کے شاباش لیتے اور ملک اور بھٹہ مالک کو جھوٹے الزام لگا کر گرفتار کرکے، بےعزت کرتے چند دن شوبازی کرکے کسی غیر ملک یا ایجنسی سے شاید مال مل گیا ہوگا،،بچوں کو چندہ اناوئس کیا آپ کے دورےحکومت میں محترمہ کس بھٹہ مزدور کے بچے وظیفہ دیا گیا،،؟؟؟ھم بار بار شور کرتے رہے زبانی جمع خرچ تھا ڈرامہ کیا گیا بے عزت مالکان کوکیا اور پاکستان کاامیج خراب کیاھم مالکان میڈیا اور درخواستوں کے ذریعے کہتے رہے، ھم بھٹہ مالکان اور ھمارے مزدوروں کی بات سنیں مزدور بھٹہ پر رہائش پذیر ہوتے ہیں بچے بھی بھٹہ پر والدین کے ساتھ رہتے ہیں جہاں والدین کام کرتے ہیں وہیں بچے کھلتے ہیں ھمارے مزدور پیس ریٹ پر کام کرتےہینکب کام شروع کر تے ہیں اور کب بند کرتے ہیں کب کام نہیں کرتے،،یہ ان کی مرضی پر ھم پیس ریٹ کے حساب سے ادائیگی کرتے ہیں مزدور کتنا کام کرتا ہے اتنی ادائیگی کرتے ہیں وہ کس سے کام کراتا ہے کتنے لوگوں سے مل کر کام کرتا ہےسپریم کورٹ کا فیصلہ بچوں سے کام کرانے کا ذمیدار فیملی ھیڈ ہوگامگر محترم خادم اعلی صاحب نے بھٹہ مالکان کو بے عزت کیا،بچوں کو وظیفہ کا اعلان کیا ہو سکتا ہے چند بچوں کو دیا ہو ھمارے مزدوروں کو کوئی وظیفہ نہ دیا حکومت کے ریکارڈ میں دیکھا جا سکتا ہے میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ بھٹوں پر چائلڈ لیبر نہیں ہوتی نام نہاد این جی اوز اور جعلی میڈیا کے روزگار کا مسئلہ ہےمیری حکومت سے درخواست ہے کہ ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل کی جائے جو بھٹہ پر گراونڈ ریئلٹی کی تحقیق کرے اور پھر اس کے مطابق قانون سازی کرےپوری دنیا میں جبری مشقت کا سنگین الزام ہے اور 1988 میں سپریم کورٹ میں فیصلہ اور اور 1992 بونڈڈ ایکٹ ھم پر نازل کیا گیا پوری دنیا میں بھٹوں پر جبری مشقت خرید وفروخت کا چرچہ پاکستان کو بھی ذلت کا سامنا ہے1992 سے 2021 تک ایک بھی ایف آئی آر پر پاکستان میں نہیں ہوئی اس ثابت ہوا کہ گرونڈ پر بونڈڈ اور چائلڈ لیبر نہیں اعلی حکام قومی اسمبلی کے ممبران سنٹرز اور صوبائی حکومتوں وزیراعظم صاحب اور انسانی حقوق کے پاکستانی اور بینالاقوامی ادارے اور پاکستان پر الزام لگانے والے ممالک اقوام متحدہ سے درخواست ہے کہ ھمارا ساتھ دیںھم اس سے نکلنا چاہیے ہیں اور پیارے ملک پاکستان پر خواہ مخواہ کے الزام سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ھماری مدد کرو،،تحریر،،محمد شعیب خان نیازیچیئرمین برکس کلن اونرز ایسوسی ایشن پاکستان

Image

🌹🌹زگ زیگ بھٹوں کے حوالے سے لاہور میں آئی سی آئی موڈ بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن حکومت پنجاب اور برٹش ہائی کمیشن کا مشترکہ سیمنار ‏🌹🌹آج مورخہ 24جون 2021بروز جمعرات رمادا ہوٹل لاہور میں آئی سی آئی موڈ برٹش کونسل پی ڈی ایم اے محکمہ ماحولیات پنجاب اور برک کلن اونرز ایسوسی ایشن کا مشترکہ سیمنار ہوا جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے سے نیپال سے بدھیا پردھان اسلام آباد سے وفاقی وزیر براے ماحولیات اور وزیراعظم کے مشیر امین اسلم نے خطاب کیا جبکہ پی ڈی ایم اے کی طرف سے بابرسہیل وڑائچ ڈائریکٹر نسیم الرحمن شاہ ڈائریکٹر ٹیکنکل ڈاکٹر شازیہ صاحبہ آئی سی آئی موڈ کی طرف سے کنٹری ہیڈ محمداسماعیل نیپال سے جی ایم شاہ برٹش ہائی کمیشن کی طرف سے محترمہ ثناء ضیا اور ثاقب صاحب نیکا کی طرف سے ٹیکنکل منیجراسد محمود بروک پاکستان کی طرف سے نعیم شاہ اور آئی ایل او کی طرف سے میاں بنیامین صاحب نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا اور بھٹہ ایسوسی ایشن کی طرف سے محترم شعیب خان نیازی صاحب مہرعبدالحق صاحب سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع سے آے ہوے بھٹہ مالکان نے شرکت کی سیمنار کا مقصد بھٹوں کو ماحول دوست بنانے کیلئے ملکی سطح پر حکومتی اور دیگر اداروں کے کردار اور پیش رفت اور آنے والی صورتحال اور درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنا تھا بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کی طرف سے شرکت کرنے والے عہدیداران نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور اپنی مشکلات بیان کی اداروں کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ انڈسٹری کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرینگے آخر میں آئی سی آئی موڈ کی طرف سے شرکاء کو ظہرانہ دیا گیا اور اختتامی کلمات میں اس بات کا اظہار کیاگیا کہ بھٹہ انڈسٹری کو درپیش مسائل کو حل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جاے گئی اور آخر میں آئی سی آئی موڈ پاکستان کے ہیڈ اسماعیل نے شرکا کا شکریہ ادا کیارپورٹ بشکریہاظہرالدین خان

Image

🌹🌹برک کلن اونرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی فیڈریشن چیمبئرآف کامرس کی ممبرشپ ‏🌹🌹بھٹہ انڈسٹری کی تاریخ میں پہلی بار بھٹہ مالکان کی تنظیم برک کلن اونرز ایسوسی آف پاکستان نےفیڈریشن چیمبئر آف کامرس انڈسٹریز کی ممبر شپ حاصل کرلی ہے جس کے باعث بھٹہ انڈسٹری کو قانونی سپورٹ اور ملکی سطح پر مثبت چہرہ سامنے آیا ہے اور رجسڑیشن سے تنظیم کی طاقت کئی گنا بڑھ گئی ہے پاکستان کی اتنی ہائی لیول فیڈریشن میں رجسٹریشن کوئی عام بات نہیں بلکہ کئی قانونی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں مگر ہمیں گھر بیٹھے ہی اتنی جلدی پاکستان کی طاقت ور فیڈریشن کی ممبر شپ مل گئی جو بہت بڑی کامیابی ہے جس کا تمام سہرا بھٹہ انڈسٹری کے قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب اور مہر عبدالحق صاحب کو جاتا ہے جہنوں نے اتنہائی کم وقت میں سیاسی وذاتی تعقات کو استعمال کرتے ہوے اس رجسڑیشن کو جلدازجلد ممکن بنایا ہم اتنے بڑے کارنامے پر قائدین کا جتنا بھی شکریہ اداکریں کم ہے اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمارے قائدین کو لمبی صحت وتندرستی والی زندگی عطاء فرماے اور ہماری انڈسٹری کو ایسے ہی ترقی سے ہمکنار کرے🌹🌹🌹آمین ‏🌹🌹اظہرالدین خان

Image

عباس ‏خان ‏اڈا ‏لاڑ ‏ملتان

عباس ‏خان ‏اڈا ‏لاڑ ‏ملتان

🌹پاکستان میں جنگلات کے تحفظ کیلئے بھٹوں میں نئی ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے🌹اس وقت پوری دنیامیں ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں ان کوششوں میں پاکستان عالمی دنیا کا پھرپور ساتھ دے رہا ہے انہی کاوشوں کا اعتروف کرتےہوے پاکستان کو 12 رکنی ممالک کی ماحولیاتی تنظیم کی سربراہی دی گئی ہم بھٹہ مالکان اپنے قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب کے نہایت مشکور ہیں جو بھٹہ انڈسٹری کی جانب سے ان کوششوں میں حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں اور آئیندہ آنے والی نسلوں کو ماحولیاتی خرابی اور آلودگی سے پاک پاکستان دینے کی کوششوں میں ہمہ تن مصروف اور پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں بھٹہ مالکان کے سنجیدہ حلقے بھی مختلف تجاویز پیش کررہے ہیں اور ان تجاویز میں اہم تجویز بھٹوں پر لکڑی کا بےدریخ استعمال روکنا ہے اور جنگلات کی کٹائی میں کمی لانا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق پنجاب بھر میں تقریبا دس ہزار بھٹہ جات ہیں جن میں 25سو کے قریب بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہوچکے ہیں باقی 7ہزار بھٹے سموگ کی وجہ سے بند پڑے ہیں جن کو دوبارہ آگ دینے کیلئے کم از کم 300 من لکڑی فی بھٹہ لکڑی جلائی جاتی ہے یعنی دوبارہ 7ہزار بھٹوں کو آگ دینے کیلئے کم از کم 21 لاکھ من لکڑی جلائی جاے گئی اگر فی درخت دس من لکڑی لگائی جاے تو پاکستان میں صرف بھٹوں کو دوبارہ آگ دینے کیلئے دولاکھ دس ہزار درختوں کا صفایا ہوگا جو کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا قومی اور ماحولیاتی نقصان ہے اور پنجاب کے ٹرائیبل ایریاز تونسہ ڈی خان جام پور داجل اور ان کے محلقہ علاقوں میں موجود بھٹے جو کہ سارا سال لکڑی جلاکر اینٹ پکاتے ہیں وہ جلائی جانے والی لکڑی اس اعدادوشمار کے علاوہ ہے لہذا ہم بھٹہ مالکان کو قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب کے ویژن کا ساتھ دیتے ہوے نئی بھٹہ ٹیکنالوجی زگ زیگ پر اپنے اپنے بھٹے منتقل کرنا ہونگے اور ساتھ ہی نت نئے تجربات کرتے ہوے بھٹوں میں لکڑی کے بےدریخ ضیاع اور جنگلات کی کٹائی کو روکنا ہوگا کیونکہ سرسبزوآلودگی سے پاک پاکستان ہی ہماری آئیندہ کی آنے والی نسلوں کے بقاء کا ضامن ہے ، وسلام ، تحریر،،اظہرخان ملتان

Image

جناب محترم عزیزم دوستواسلام علیکم جب میں بھٹہ والوں کا صدر بنا ہوا تھا تقرہبا 30سال پہلے بانڈڈ لیبرکے نام سے کئی نام نہاد ااین جی اوز وجود میں آئی جو انڈیا اور پاکستان دشمن لابی کی طرف سے پاکستان میں انسانی حقوق کے نام پر داخل ہوئیں اور بھٹہ مالکان کے خلاف بہت غلیط جھوٹا جعلی خود ساختہ کہانیوں کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کیا گیا اس پر ھم نے پورے پاکستان کی یونین بنائی اور مل کر پاکستان دشمن قوتوں کا مقابلہ کیایہ بہت لمبی کہانی ہے پھر کبھی سہی آج اس کے دوسرے رخ پر بات کرنی ہے کہ بانڈڈ لیبر کو ختم کرنے میں خود بھٹہ مالکان کس طرح اس الزام کو ختم کر سکتے ہیں پیشگی کی شرح بہت زیادہ تھی اس کو کیسےکم کیا جا سکتا ہے ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے پورے پاکستان میں دورے کئے اور پیشگی کم ادائیگی کر کے اس الزام کو کمزور کیا جا سکتا تھا مگر بد قسمتی سے بھٹہ مالکان نے اس محنت کو از خود ناکام کیااس کے بعد ھم اینٹ کی مشین کی تلاش میں نکل پڑے اور پوری دنیا میں اس کی تلاش شروع کی اس وقت اینٹ مشین سے ترقی یافتہ ممالک میں بنتی تھیں بہت بڑے بڑے کارخانوں سے کام ہو رہا تھا جو پاکستان کے ھمارے ساتھیوں کے وسائل میں ممکن نہ تھا91ء میں ھمیں معلوم ہوا کہ انڈیا میں چھوٹی مشین دریافت ہو گئی ہے میں اور اسوقت کے لاہور کے صدر ملک اسلم صاحب اور لاہور کی دوساتھی اپنے اپنے خرچ پر انڈیا گئےوہاں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی مگر پیشگی کو کم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ مشین ہے شکرہے اب اس پر پاکستان میں بھی کام ہو رہا ہے مجھے امید ہے مشین کے ذریعے پیشگی کے بغیر اینٹ بنائیں گے اور باڈنڈلیبر کےالزام اور پرپیگنڈہ سے اپنی اور اپنے ملک کی عزت کو محفوظ کریں گے اپ وقت ہے ھم اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کریں چالڈ لیبر شوشل سیکورٹی جعلی مزدوروں کے ذریعے پیشگی کے نام پرنام نہاد این جی اوز سے بلیک میلنگ کو روکنا بہت ضروری ہے بہت اھم مسئلہ کوئلہ ہے جس طرح ظالمانہ طرز عمل سے کوئلہ مالکان لوٹتے ہیں اسطرح ظلم سے تو ڈاکو بھی نہیں لوٹتے وزن نہیں دینا بلکہ پیمائیش دیتے ہیں ھم اتنے کمزور ہیں کہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتے جب ھمارے اینٹ کے ریٹ نقصان کی حد تک ہو جاتے ہیں اس وقت کوئلہ مالکان اپنے کوئلہ کے ریٹ ہر ھفتہ بڑھاتے ہیں کوئی پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کو سکتا کہ کیا مائن میں زلزلہ آیا دریا کا پانی مائین میں داخل ہو گیا یہ سراسر ڈاکہ ہے ھم خریدار ہیں ھم بات بھی نہیں کر سکتے اچھے کوئلہ میں گندے کوئلہ کو ملا کر بھیجتے ہیں ٹرکوں کے اڈے ان کوئلہ مالکان کے ہیں اپنی مرضی کا خود کرایہ طے کرتے ہیں بھٹہ مالکان کوئلہ مالکان کے صرف مزدور ہیں بھٹےمالکان کی ان ناجائز منافع خوروں کے سامنے نہ کوئی عزت ہے اورنہ بطور خریدار جائز مطالبہ کرنے کی ہمت بھی نہیں ہےمیرےخیال میں بطور خریدار اپنا حق اور عزت کی بحالی کے لیے بات اور مطالبہ کرنا چاہتے زگ زیگ بھٹہ مالکان کے فائدے کی بات تھی اور پاکستان اور پوری دنیا کے فلاح کی بات تھی یہ صرف بھٹہ مالکان کا ذاتی معاملہ تھا بھٹہ مالکان سے میرا سوال ہے ان لوگوں نے ھمارے اندراپنے کول ایجنت کے ذریعے پاکٹ یونین کیوں بنائی ھمارے اتحاد کو اپنےمالی وسائل سیاسی اثر رسوخ استعمال کیوں کیا مجھے اپنا دشمن قرار کیوں دیابھٹہ مالکان کے اندر یونین بنانے والے ایک صاحب نےجب مجھے دشمن کہا میں نے ان کو کہاھم آپ کے خریدار ہیں دشمن نہیں ھمارے آپ سے تحفظات ہیں یہ ھمارا بطور خریدار حق ہے زگ زیگ بھٹہ مالکان کو گمراہ کیا گیا نا اتفاقی پیدا کی گروپ بندی کی گئی جلسے جلوسوں کے لئے تمام تر وسائل استعمال کئے گئے میرا ان مخصوص کوئلہ مالکان گروپ سے سوال ہے اگر کل اینٹ کے ریٹ کم ہو جائیں اور آپ حسب روایت کوئلہ کا کرایہ بڑھادیںاور ہم کچھ دنوں کے لئے بھٹے بند کرنے کا اعلان کریں تو اسوقت آپ کا کیا ری ایکشن ہوگاکوئلہ زگ زیگ بھٹے میں کم خرچ ہوگا درد آپ کو کیوں اٹھتا ہے اب تو سندھ بلوچستان اور کے پی کے بھی بدلنے جا رہا کہاں کہاں روکوگئےآپ کوئلہ کے مالکان دوسروں کیلئے بھی اچھا سوچودوسروں کے گھروں میں داخل اندازی بند کرو اپنا کاروبار لوٹ کھسوٹ جاری رکھو دوسروں کے حقوق اور ناجائز منافع خوری بند کریں بھٹہ مالکان خود بڑے سردار ہیں وہ آپکی عزت کرتے ہیں وہ سردار کسی کو نہیں مانتے کوئلہ مالکان سےدرخواست ہے ھم ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں بہت عزت احترام اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوے دوستی کے رشتےکو قائم رکھتے ہوئے اپنے تعلقات کوجاری رکھیں گئے آپ ~کی ایک یونین ھمارے معملات میں دخل اندازی رہی ہے انکو روکو اورھم آپس میں کاروبار کریں سیاست نہیں ایک دوسرے کے کام مداخلت نہیں ہونی چاہیئےمحمد شعیب خان نیازی، صدر بھٹہ اونر ایسوسی ایشن آل پاکستان

Image

🌹🌹آو بدلتے وقت کے ساتھ بدل جائیں🌹🌹السلام علیکم ، تمام دوستوں کو نیا سال مبارک ہو ،دعا ہے اللہ تعالی نئے سال کو اسلام و پاکستان اور ہماری انڈسٹری کیلئے خوشیوں کا سال بناے، سال 2020 بھٹہ انڈسٹری کیلئے بہت اہم اور تاریخی سال رہا جس میں بھٹہ انڈسٹری کو بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا یہ وہ سال تھا جس میں پہلی دفعہ بھٹہ انڈسٹری کے لوگ تقسیم ہوے اور لوگوں نے مرکزی تنظیم پر اعتراضات اٹھاے ، قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب اور انکی ٹیم نے پاکستان کے اندر ایک نئی ٹیکنالوجی کو رواج دینے کیلئے کوشش کی اس کوشش میں انکے خلاف بہت پروپیگنڈہ بھی کیا گیا ،اس پروپیگنڈے کا فائدہ اٹھاتے ہوے زگ زیگ کی آڑ میں کوئلہ مالکان نے بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش کی جبکہ ملتان سے ہمارے ساتھی امجدجگوال صاحب نے پہلے کوئلہ کے نام پر لوگوں کو ورغلایا اور تحریک شروع کی جس میں ناکامی کے بعد لوگوں کو زگ زیگ کے نام پر مس گائیڈ کرنا شروع کردیا اور لوگوں کو اس ٹیکنالوجی سے روکنا شروع کردیا اور مرسوں مرسوں زگ زیگ نہ کرسوں کا نعرہ لگا کر پنجاب بھر سے بھاری چندہ بھی، اسی دوران سموگ کے دنوں میں بھٹہ جات کی دوماہ بندش کی مخالفت کی اور ہائیکورٹ چلے گئے مگر وہ سے کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے اس کے بعد کوئلہ مالکان کے ہمراہ وزیراعلی سے ملاقات کی جس کا ایجنڈا کوئلہ مالکان کے لیز پر پاپندی کا تھا مگر جگوال صاحب نے باہر آکر اعلان کیا کہ ہم نے زون بحال کرالیے ہیں مگر اس کی یہ خبر بھی جھوٹ نکلی اور ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا اب دوسری جانب زگ زیگ مخالف بیانیے پر لوگوں سے بھاری چندہ لیا ہوا ہے ہر طرف سے مسلسل ناکامی کے بعد جگوال صاحب لوگوں کو لڑانے کیلئے روڈوں پر لے آیاہے اس سے یہ ہوگا یہ کہ یہ چند دن کیلئے جیل چلاے گا اور اس کے پاس یہ جواز پیدا ہوجاے گا کہ میں آپکی خاطر اور اس انڈسٹری کی خاطر جیل بھی گیاہوں جگوال صاحب پہلے بھی لوگوں کا بہت وقت برباد کرچکے ہیں اب وہ لوگوں کو شاور سسٹم حقہ سسٹم اور دیگر آدر آیشیز کے معاملے میں الجھا کر انکا وقت ضائع کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب زگ زیگ ٹیکنالوجی بہت تیزی کے ساتھ پاکستان بھر میں مقبول ہورہی ہے لوگ تیزی کے ساتھ اس پر منقتل ہوریے ہیں اب تو وہ صوبے جہاں ابھی زگ زیگ حکومتی سطح پر اس کا ایشو نہیں اٹھا وہ خود پنجاب کے دورے کرکے اس مفید ٹیکنالوجی پر منتقلی کا سوچ رہے ہیں اور بعض اس پر جانے کی تیاریوں میں ہیں زگ زیگ کیلئے بےشمار ساتھیوں نے خدمات سرانجام دیں ہیں جن میں، میں کچھ کے نام لینا چاہونگا حاجی اسلام صاحب میاں فرمان صاحب شہزاد ساہی صاحب سیدباقر شاہ صاحب شیخ ثاقب صاحب شیخ سلیمان صاحب رانا سبحان صاحب علی اسد عمران سجن اسلم ڈوگر صاحب اور بےشمار ایسے ساتھی ہیں جو دن رات لوگوں کی زگ زیگ بارے رہنمائی کررہے ہیں اور ان لوگوں کی زگ زیگ کیلئے بےشمار خدمات ہیں اور میں خاص طور پر ان ساتھیوں کا بھی شکرگزار ہوں جہنوں نے نیازی صاحب کی آواز پر لیبک کہتے ہوے شوشل میڈیا پر انکا دفاع کیا اور انکے بیانیے کو ہر جگہ پہنچایا جن میں خاص طور پر پھولنگر سے رانا عمران صاحب ملتان سے بھائی اظہر خان بہاولنگر سے حاجی غلام رسول صاحب اور دیگر ساتھیوں کا بھی میں بہت مشکور ہوں اور ہم سب اپنے قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب کیلئے بھی دعا گو ہیں اور اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں انکا سایہ ہمارے سروں پر ہمیشہ قائم دائم رہے، آخر میں، میں آپ سے پھر گزارش کرونگا کہ خدارا احتجاج جلسے جلوسوں میں اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں اپنے اپنے بھٹوں کو پنکھا بلور لگائیں اور بھٹہ چلائیں اگر آپ کی بھرائی اس وقت بھٹے میں پرانی طرز کی ہے تب بھی آپ پنکھابلور لگاکر بھٹہ چلائیں اگر کسی ضلع میں اس بارے محکمہ ماحولیات کا کوئی افسر آپکو تنگ کرتا ہے تو آپ مجھ سے یا محترم قائد شعیب خان نیازی صاحب سے دن رات کسی بھی وقت رابطہ کرسکتے ہیں ہم آپکی خدمت کیلئے دن رات حاضر ہیں، اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو، آمین ‏🌹❤❤🌹دعا گو ‏🌹مہرعبدالحق جنرل سیکرٹری آل پاکستان بھٹہ مالکان ایسوسی ایشن

Image

🌹سول ایوارڈ تمغہ امتیاز کا اصل حقدار کون،🌹🌹 ‎پاکستان گزشتہ چند سالوں سے ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بہت سنجیدہ اقدامات اٹھارہاہے جس کا اعتراف بین اقوامی ادارے بھی کررہے ہیں اس اہم کردار میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا اہم وژن ،گرین پاکستان، بہت حد تک مقبول ہوا ہے جس کی بدولت ملک بھر میں ماحولیات کے سلسلے میں اہم اقدامات کیے جارہے ہیں ملک بھر میں درخت لگاے جارہے ہیں اور سموگ اور دیگر ماحولیاتی مسائل کو آفت قرار دے اس پر بہت کام ہورہاہے، اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ اس وژن میں اپنی اپنی خدمات پیش کررہاہے مگر جو اس وقت تک کی سب سے بڑی جدمت اور عملی طور پر جس نے وژن کو کامیاب کیا ہے وہ ہے پاکستان کی بھٹہ انڈسٹری، بھٹہ انڈسٹری پاکستان کی وہ واحد انڈسٹری ہے جس نے سب سے پہلے نہایت کم وقت میں اپنے سوسالہ سے زائد رائج نظام کو بغیر حکومتی مدد کے اپنے بل بوتے پر ماحولیات دوست ٹیکنالوجی زگ زیگ پر منتقل کیا اور پاکستان کی تمام بڑی بڑی انڈسٹری پر سبقت لے گئی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب بڑھی وہ یہاں اس ماحول دوست ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قدرتی وسائل کو بھی 30سے 40 فیصد سالانہ بچت کرنے کی طرف کامیاب قدم بڑھا چکے ہیں اور پاکستان کے ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اسکے قدرتی وسائل کو بھی آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ کررہے ہیں جو اس سے بھی بڑی کامیابی ہے اور اس کا تمام سہرا بھٹہ انڈسٹری کے قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب کے سر جاتاہے جس نے اپنے اخراجات پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیرون ممالک سفر کیا اس ٹیکنالوجی کو سمجھا سیکھا اور پاکستان لاے اور پاکستان میں شدید مخالفت کا سامنا برداشت کیا اور وہ آخرکار اس میں سرخرو ہوے اور آج الحمداللہ اس ٹیکنالوجی کے شدید مخالفت کرنے والے بھی اس کے گن گارہے ہیں اور اس ٹیکنالوجی سے استعفادہ حاصل کررہے ہیں لہذا حکومت پاکستان اس واحد انڈسٹری جس نے بغیر حکومتی مدد کے پاکستان میں گرین پاکستان وژن میں سب سے پہلے اپنا حصہ ملایا اور ملک کو ماحول دوست بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس کی اس کاوش کو مدنظر رکھتے ہوے اس 23 مارچ کو جہاں فنکاروں اداکاروں ودیگر لوگوں کو ایواڈ دئیے جاسکتے ہیں تو پاکستان کا نام ماحول کے حوالے سے روشن کرنے والی انڈسٹری بھٹہ انڈسٹری کو بھی ایوارڈ سے نوازا جاے اور پاکستان کیلئے خدمات کومدنظر رکھتے ہوے انڈسٹری کے قائد محترم شعیب خان نیازی صاحب کو سول یوارڈ تمغہ امتیاز سے نوازا جاے ،پاکستان زندہ باد ‏🇵🇰🇵🇰🇵🇰وسلام ،اظہرخان ملتان🌹🌹🌹🌹

Image

***بہروپ اور کردار ***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم.....!آخر بھٹہ انڈسٹری ہی کیوں حکومتی مذاق کا شکار ہے؟آخر کیا وجہ ہے بھٹوں سے متعلق فیصلے دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہونے لگ پڑے؟کون ایسے کردار ہیں جو بھٹہ انڈسٹری کو یرغمال رکھنا چاہتے ہیں؟کون ہیں جو بھٹہ مالکان کے نقصان اور ملکی معاشی استحکام کے خلاف کام کر رہےہیں؟کون ہیں جو ظاہری طور پر محب_وطن جبکہ اندرونی طور پر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟ٹھہریے یہ سب کردار آشکار ہونے والے ہیں ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!بہرحال آپکو یاد ہو گا پچھلے سال محکموں نے پنجاب کے اضلاع کو بھٹوں کے حوالے سے مختلف زونز میں تقسیم کردیا جن میں گرین زون ،ییلو زون اور ریڈ زون شامل تھے..ریڈ زون ایسے اضلاع تھے جنہیں ڈھائی ماہ کے لیے بند کر دیا گیا اور بھٹہ ایسوسی ایشن کے اس وقت کے نمائندے(مہر و نیازی) بھٹہ مالکان کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ حکومت ٹھیک کہہ رہی ہے ..بھٹوں کا دھواں سموگ کی وجہ ہے ہمیں محکموں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،یہ ملک ہمارا ہے اس ملک کی فضا ہماری ہے الغرض اس طرح کی بہت سی دلیلیں یہ نمائندے دیتے رہے محکمہ جات نے ان کے انہی بیانات کو کیش کرایا اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا گیا ڈھائی ماہ کی بندش سے جو نقصان ہوا اسے چھوڑیے لیکن اس بندش نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ واقعی بھٹے ہی سموگ کی وجہ ہے اور خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پچھلے سال(2018) میں سال 2017 کی نسبت کم اسموگ پیدا ہوئی جس کی بڑی وجہ موسم کا ٹھیک ہونا تھا...لیکن بھٹہ بندش نے محکموں کے اس بیانیے کو مضبوط کیا کہ بھٹہ بندش کی وجہ سے اسموگ کم ہوئی اور اسی طرح پچھلے سال یہ تماشہ کامیاب رہا اور ہر فریق(حکومت،محکمے،بھٹہ نمائندے) نے اپنے اپنے حصے کی داد سمیٹی اس ضمن میں بھٹہ ایسوسی ایشن کے سابقہ نمائندوں (مہر و نیازی) نے دو قدم آگے چلتے ہوئےانتہائی عجلت میں بین القوامی این جی او (آئی سی آئی موڈ) کا تجویز کردہ زگ زیگ طریقہ جسے بعد میں نئی ٹیکنالوجی کا نام دے دیا گیا متعارف کروائی..محکموں نے نمائندوں کے اس اقدام کو بھی سراہتے ہوئے زگ زیگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ..زگ زیگ کا بنیادی مقصد سفید دھویں کا اخراج تھا لیکن یہ طریقہ بری طرح ناکام ہوا اور بلیک سموک کے ساتھ ساتھ اس طریقے نے بھٹہ مالکان کا کڑوڑوں کا نقصان کرایا سوشل میڈیا پر زگ زیگ کے بلیک سموک کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں پھر بھی اس طریقہ کو لانے والے محکمے کے ساتھ مل کر زبردستی عملدرامد اور بھٹہ مالکان کا نقصان کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں.زگ زیگ کی تباہ کاریوں اور ناکامی پر لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن آگے چلتے ہیں..2018 میں زونز کے شوشے کی زبردستی کامیابی کے بعد اس سال بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی..اب بھی سابقہ نمائندے حب الوطنی کا درس دیتے رہے اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کا موجب قرار دیتے رہے لیکن اب کی بار ایک مرد مجاہد امجد خان جگوال نے بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کی کمان سنبھالی تو پورے پاکستان سے بھٹہ مالکان نے جگوال کی کال پر لبیک کہا..مداح سرائی اس تحریر کا مقصد نہیں بلکہ بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کا تحفظ کرنے پر جگوال صاحب کی تحسین کرنا ہے..خیر اب جبکہ بھٹہ انڈسٹری کی طرف سے بھرپور مزاحمت دکھائی گئی تو محکمے نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی.یوں بھٹہ مالکان کو ریلیف ملتا گیا ایک موقع پرجگوال صاحب کی سیکرٹری ماحولیات کے ساتھ میٹنگ میں جب زونز کے غیر قانونی طریقہ پر بات کی گئی تو انکشاف ہوا کہ سیکرٹری صاحب زون کی تقسیم سے واقف ہی نہیں اور ایسا کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں ہوا..پھر بھٹہ مالکان یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارے سابقہ نمائندے جو روز محکمے کے ساتھ میٹنگ کرتے تھے انہیں زونز کی بابت معلومات ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بھٹہ مالکان کو تقسیم کیوں کیے رکھا ؟اور اب بھی انکی خاموشی محکمے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے...اس کے برعکس امجد جگوال ہر محاز پر محکموں اور ان کرداروں کے ساتھ نبرازما ہے...پچھلے دنوں ڈی جی ماحولیات کو جس طرح جگوال نے لاجواب کیا اور نڈر طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کیا وہ قابل دید ہے اب اسی مزاحمت کی بدولت بھٹہ انڈسٹری کااسموگ کا موجب ہونے کا تاثر زائل ہو رہا ہے اب ہر دوسرا شخص بھارتی پنجاب اور پاکستان میں فصلوں کی باقیات اور کڑوڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو سموگ کا مین موجب قرار دے رہا ہے.زگ زیگ پر بھی محکمہ اس بات پر راضی ہے کہ چاہے زگ زیگ نا لگائیں لیکن دھواں سفید کرنے کے لیے اقدامات کریں .کثیر تعداد میں شجر کاری کے موقف کو بھی پذیرائی مل رہی ہے ایسے میں جگوال صاحب کی محنت کی بدولت بھٹہ مالکان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے وزیراعلی پنجاب بھی بھٹے بند نا کرنے کے احکامات دے چکے ہیں ...سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے پھر اچانک........!اچانک سے محکمہ ماحولیات کچھ کرداروں کی تجویز پر بھٹے بند کرنے کی سمری وزیراعلی کو ارسال کرتا ہے جسے منظور کر لیا جاتا ہے یہ وہی کردار ہیں جنہیں اب یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ بھٹہ مالکان ہم سے مایوس ہو رہے ہیں لوگ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے ہم سے ناامید ہو رہے ہیں ..اپنی ساکھ اور بادشاہت کا احساس دلانے کے لیے ان کرداروں نے ہفتوں کے بجائے گھنٹوں میں محکمے کو فیصلے کرانے پر مجبور کر دیا ...اپنے تعاون اور امجد جگوال کی مزاحمت کو بنیاد بنا کر محکمے کو بھٹہ بندش پر مجبور کر دیا..آپ کو یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ ان کرداروں کی مجرمانہ خاموشی اور اپنے آلہ کاروں کے زریعے یہ پیغام کہ بھٹہ بندش میں فائدہ ہے اس بات پر مہر ثبت کر رہی ہے....محکمے اور ان کرداروں کے پاس اب کوئی دلیل نہیں بچی کہ بھٹہ بندش کیوں ہو رہی ہے.موسم بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین ہے.اسموگ نا ہونے کے برابر پے..ایئر انڈیکس کے حوالے سے بعض آلودہ شہر بھی ترجیحات میں شامل نہیں. ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!محمد عمران سیال...!

Image