جناب محترم عزیزم دوستواسلام علیکم جب میں بھٹہ والوں کا صدر بنا ہوا تھا تقرہبا 30سال پہلے بانڈڈ لیبرکے نام سے کئی نام نہاد ااین جی اوز وجود میں آئی جو انڈیا اور پاکستان دشمن لابی کی طرف سے پاکستان میں انسانی حقوق کے نام پر داخل ہوئیں اور بھٹہ مالکان کے خلاف بہت غلیط جھوٹا جعلی خود ساختہ کہانیوں کے ذریعے پروپیگنڈہ شروع کیا گیا اس پر ھم نے پورے پاکستان کی یونین بنائی اور مل کر پاکستان دشمن قوتوں کا مقابلہ کیایہ بہت لمبی کہانی ہے پھر کبھی سہی آج اس کے دوسرے رخ پر بات کرنی ہے کہ بانڈڈ لیبر کو ختم کرنے میں خود بھٹہ مالکان کس طرح اس الزام کو ختم کر سکتے ہیں پیشگی کی شرح بہت زیادہ تھی اس کو کیسےکم کیا جا سکتا ہے ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے پورے پاکستان میں دورے کئے اور پیشگی کم ادائیگی کر کے اس الزام کو کمزور کیا جا سکتا تھا مگر بد قسمتی سے بھٹہ مالکان نے اس محنت کو از خود ناکام کیااس کے بعد ھم اینٹ کی مشین کی تلاش میں نکل پڑے اور پوری دنیا میں اس کی تلاش شروع کی اس وقت اینٹ مشین سے ترقی یافتہ ممالک میں بنتی تھیں بہت بڑے بڑے کارخانوں سے کام ہو رہا تھا جو پاکستان کے ھمارے ساتھیوں کے وسائل میں ممکن نہ تھا91ء میں ھمیں معلوم ہوا کہ انڈیا میں چھوٹی مشین دریافت ہو گئی ہے میں اور اسوقت کے لاہور کے صدر ملک اسلم صاحب اور لاہور کی دوساتھی اپنے اپنے خرچ پر انڈیا گئےوہاں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی مگر پیشگی کو کم کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ مشین ہے شکرہے اب اس پر پاکستان میں بھی کام ہو رہا ہے مجھے امید ہے مشین کے ذریعے پیشگی کے بغیر اینٹ بنائیں گے اور باڈنڈلیبر کےالزام اور پرپیگنڈہ سے اپنی اور اپنے ملک کی عزت کو محفوظ کریں گے اپ وقت ہے ھم اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کریں چالڈ لیبر شوشل سیکورٹی جعلی مزدوروں کے ذریعے پیشگی کے نام پرنام نہاد این جی اوز سے بلیک میلنگ کو روکنا بہت ضروری ہے بہت اھم مسئلہ کوئلہ ہے جس طرح ظالمانہ طرز عمل سے کوئلہ مالکان لوٹتے ہیں اسطرح ظلم سے تو ڈاکو بھی نہیں لوٹتے وزن نہیں دینا بلکہ پیمائیش دیتے ہیں ھم اتنے کمزور ہیں کہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتے جب ھمارے اینٹ کے ریٹ نقصان کی حد تک ہو جاتے ہیں اس وقت کوئلہ مالکان اپنے کوئلہ کے ریٹ ہر ھفتہ بڑھاتے ہیں کوئی پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کو سکتا کہ کیا مائن میں زلزلہ آیا دریا کا پانی مائین میں داخل ہو گیا یہ سراسر ڈاکہ ہے ھم خریدار ہیں ھم بات بھی نہیں کر سکتے اچھے کوئلہ میں گندے کوئلہ کو ملا کر بھیجتے ہیں ٹرکوں کے اڈے ان کوئلہ مالکان کے ہیں اپنی مرضی کا خود کرایہ طے کرتے ہیں بھٹہ مالکان کوئلہ مالکان کے صرف مزدور ہیں بھٹےمالکان کی ان ناجائز منافع خوروں کے سامنے نہ کوئی عزت ہے اورنہ بطور خریدار جائز مطالبہ کرنے کی ہمت بھی نہیں ہےمیرےخیال میں بطور خریدار اپنا حق اور عزت کی بحالی کے لیے بات اور مطالبہ کرنا چاہتے زگ زیگ بھٹہ مالکان کے فائدے کی بات تھی اور پاکستان اور پوری دنیا کے فلاح کی بات تھی یہ صرف بھٹہ مالکان کا ذاتی معاملہ تھا بھٹہ مالکان سے میرا سوال ہے ان لوگوں نے ھمارے اندراپنے کول ایجنت کے ذریعے پاکٹ یونین کیوں بنائی ھمارے اتحاد کو اپنےمالی وسائل سیاسی اثر رسوخ استعمال کیوں کیا مجھے اپنا دشمن قرار کیوں دیابھٹہ مالکان کے اندر یونین بنانے والے ایک صاحب نےجب مجھے دشمن کہا میں نے ان کو کہاھم آپ کے خریدار ہیں دشمن نہیں ھمارے آپ سے تحفظات ہیں یہ ھمارا بطور خریدار حق ہے زگ زیگ بھٹہ مالکان کو گمراہ کیا گیا نا اتفاقی پیدا کی گروپ بندی کی گئی جلسے جلوسوں کے لئے تمام تر وسائل استعمال کئے گئے میرا ان مخصوص کوئلہ مالکان گروپ سے سوال ہے اگر کل اینٹ کے ریٹ کم ہو جائیں اور آپ حسب روایت کوئلہ کا کرایہ بڑھادیںاور ہم کچھ دنوں کے لئے بھٹے بند کرنے کا اعلان کریں تو اسوقت آپ کا کیا ری ایکشن ہوگاکوئلہ زگ زیگ بھٹے میں کم خرچ ہوگا درد آپ کو کیوں اٹھتا ہے اب تو سندھ بلوچستان اور کے پی کے بھی بدلنے جا رہا کہاں کہاں روکوگئےآپ کوئلہ کے مالکان دوسروں کیلئے بھی اچھا سوچودوسروں کے گھروں میں داخل اندازی بند کرو اپنا کاروبار لوٹ کھسوٹ جاری رکھو دوسروں کے حقوق اور ناجائز منافع خوری بند کریں بھٹہ مالکان خود بڑے سردار ہیں وہ آپکی عزت کرتے ہیں وہ سردار کسی کو نہیں مانتے کوئلہ مالکان سےدرخواست ہے ھم ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں بہت عزت احترام اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہوے دوستی کے رشتےکو قائم رکھتے ہوئے اپنے تعلقات کوجاری رکھیں گئے آپ ~کی ایک یونین ھمارے معملات میں دخل اندازی رہی ہے انکو روکو اورھم آپس میں کاروبار کریں سیاست نہیں ایک دوسرے کے کام مداخلت نہیں ہونی چاہیئےمحمد شعیب خان نیازی، صدر بھٹہ اونر ایسوسی ایشن آل پاکستان

Comments

Popular posts from this blog

پیارے برک کلن مالکان! آج ، میں آپ کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اینٹ بنانا قدرے مشکل اور بعض اوقات خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی بہت سی دیگر صنعتوں سے بھی آسان ہے۔ یہ خاص طور پر سچ ہے اگر آپ نیا زگ زگ طریقہ اپناتے ہیں۔ آئیے فرق معلوم کرنے کے لئے پرانے اور زیگ زگ طریق کار کا موازنہ کریں۔ روایتی طریقہ میں ، اسٹیکنگ دو کچی اینٹوں پر کی جاتی ہے۔ جبکہ زیگ زگ بھٹہ دیوار کی طرح رنگا ہوا ہے۔ پرانے طریقہ کار میں ستون کا پورا وزن صرف دو اینٹوں پر ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹوٹ جاتی تو سارا ستون بیٹھ جاتا۔ زیگ زگ اسٹیکنگ میں صرف 40 ڈگری درجہ حرارت سے نیچے کی لکیر کا رخ تبدیل کرنا ہوتا ہے ، جو روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کہیں کم خطرناک ہے۔ جبکہ پرانے طریقہ کار میں ، مزدور کو 80 ڈگری سنٹی گریڈ کے سکشن ہول میں داخل ہونا پڑا ، جہاں کارکنوں کو لکڑی کے جوتےے پہنائے گئے ہوتے تھے۔ پرانے بھٹے نے آس پاس کی تمام آبادی کو آلودہ کردیا ، جلایوں کے لباس کاربن دھواں اور دیگر گیسوں سے کالے ہوگئے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ زہریلی گیسیں انسانوں ، جانوروں اور کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ زیگ زگ 30 سے ​​35٪ کم کوئلہ اور دیگر ایندھن استعمال کرتا ہے ، جس سے لوگوں کی عمر اور آپ کی جیب کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 20 ملین ٹن کوئلہ بھٹوں سے خرچ ہوتا ہے۔ زیگ زیگ کوئلے کے حجم کو 6 ملین سے 7 ملین ٹن سالانہ تک کم کرتا ہے ، جس سے انفرادی یا قومی سطح پر بھی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح ، لکڑی اور آگ جلانے والے دیگر سامان کو بھی تناسب سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ دل کے مکمل اطمینان کے ساتھ زیگ زگ کو مکمل طور پر شفٹ کروں۔ ہماری آئندہ نسلوں کو دیکھنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے ، جو صرف زیگ زگ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے کام کرنے کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے گیجٹس بھی متعارف کروانا چاہئے۔ ہم نے اپنے بھٹوں پر خطرے والے عوامل اور خطرات کو کم کرنے کے لئے ایک بچاؤ اور تکنیکی کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم اپنی تجاویز اس کمیٹی کو ارسال کریں کہ ہم بھٹوں میں ہونے والے ناخوشگوار حادثات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ، ناخوشگوار حادثات شرمناک اور جعلی این جی اوز کے ذریعہ پھیل جاتے ہیں تاکہ ہماری برادری کو بدنام کیا جاسکے۔ لہذا ، ہمیں جلد از جلد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کاش ہم متاثرہ مزدوروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کریں۔ میں بھی اس ضمن میں آپ کی تجاویز سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر معاشرتی برائیاں ہیں۔ ہم اپنے ملک سے چلڈرن لیبر ، بندہ مزدوری ، آلودگی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ نام نہاد این جی اوز ، اپنے ذاتی مفادات کے تحت ، دنیا میں پہلے ہی ہمیں بدنام کر چکی ہیں۔ میں نے بار بار حکومت ، آئی ایل او ، ہیومن ریسورس کارکنوں ، وزارت محنت اور دیگر آزاد مبصرین کو حقائق کی تلاش کرنے والی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی دعوت دی ہے ، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں ، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جاسکے اور ہمارے ساتھ غیر منصفانہ پروپیگنڈہ کیا جائے۔ غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا - مبالغہ آمیز پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے کے بجائے ، انہیں زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے آنا چاہئے جو بالکل مختلف ہیں۔ ہم ایسی کسی بھی کمیٹی کے ساتھ پورے دل سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ ڈونر ایجنسیوں ، حکومت ، اور آئی این جی اوز کو مکمل طور پر ان لعنتوں سے نجات دلانے کے لئے ہماری سہولت کے لئے آنا چاہئے۔تحریر ،، محمد شعیب خان نیازی چیئرمین (بی کے او اے پی)

***بہروپ اور کردار ***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم.....!آخر بھٹہ انڈسٹری ہی کیوں حکومتی مذاق کا شکار ہے؟آخر کیا وجہ ہے بھٹوں سے متعلق فیصلے دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہونے لگ پڑے؟کون ایسے کردار ہیں جو بھٹہ انڈسٹری کو یرغمال رکھنا چاہتے ہیں؟کون ہیں جو بھٹہ مالکان کے نقصان اور ملکی معاشی استحکام کے خلاف کام کر رہےہیں؟کون ہیں جو ظاہری طور پر محب_وطن جبکہ اندرونی طور پر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟ٹھہریے یہ سب کردار آشکار ہونے والے ہیں ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!بہرحال آپکو یاد ہو گا پچھلے سال محکموں نے پنجاب کے اضلاع کو بھٹوں کے حوالے سے مختلف زونز میں تقسیم کردیا جن میں گرین زون ،ییلو زون اور ریڈ زون شامل تھے..ریڈ زون ایسے اضلاع تھے جنہیں ڈھائی ماہ کے لیے بند کر دیا گیا اور بھٹہ ایسوسی ایشن کے اس وقت کے نمائندے(مہر و نیازی) بھٹہ مالکان کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ حکومت ٹھیک کہہ رہی ہے ..بھٹوں کا دھواں سموگ کی وجہ ہے ہمیں محکموں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،یہ ملک ہمارا ہے اس ملک کی فضا ہماری ہے الغرض اس طرح کی بہت سی دلیلیں یہ نمائندے دیتے رہے محکمہ جات نے ان کے انہی بیانات کو کیش کرایا اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا گیا ڈھائی ماہ کی بندش سے جو نقصان ہوا اسے چھوڑیے لیکن اس بندش نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ واقعی بھٹے ہی سموگ کی وجہ ہے اور خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پچھلے سال(2018) میں سال 2017 کی نسبت کم اسموگ پیدا ہوئی جس کی بڑی وجہ موسم کا ٹھیک ہونا تھا...لیکن بھٹہ بندش نے محکموں کے اس بیانیے کو مضبوط کیا کہ بھٹہ بندش کی وجہ سے اسموگ کم ہوئی اور اسی طرح پچھلے سال یہ تماشہ کامیاب رہا اور ہر فریق(حکومت،محکمے،بھٹہ نمائندے) نے اپنے اپنے حصے کی داد سمیٹی اس ضمن میں بھٹہ ایسوسی ایشن کے سابقہ نمائندوں (مہر و نیازی) نے دو قدم آگے چلتے ہوئےانتہائی عجلت میں بین القوامی این جی او (آئی سی آئی موڈ) کا تجویز کردہ زگ زیگ طریقہ جسے بعد میں نئی ٹیکنالوجی کا نام دے دیا گیا متعارف کروائی..محکموں نے نمائندوں کے اس اقدام کو بھی سراہتے ہوئے زگ زیگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ..زگ زیگ کا بنیادی مقصد سفید دھویں کا اخراج تھا لیکن یہ طریقہ بری طرح ناکام ہوا اور بلیک سموک کے ساتھ ساتھ اس طریقے نے بھٹہ مالکان کا کڑوڑوں کا نقصان کرایا سوشل میڈیا پر زگ زیگ کے بلیک سموک کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں پھر بھی اس طریقہ کو لانے والے محکمے کے ساتھ مل کر زبردستی عملدرامد اور بھٹہ مالکان کا نقصان کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں.زگ زیگ کی تباہ کاریوں اور ناکامی پر لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن آگے چلتے ہیں..2018 میں زونز کے شوشے کی زبردستی کامیابی کے بعد اس سال بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی..اب بھی سابقہ نمائندے حب الوطنی کا درس دیتے رہے اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کا موجب قرار دیتے رہے لیکن اب کی بار ایک مرد مجاہد امجد خان جگوال نے بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کی کمان سنبھالی تو پورے پاکستان سے بھٹہ مالکان نے جگوال کی کال پر لبیک کہا..مداح سرائی اس تحریر کا مقصد نہیں بلکہ بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کا تحفظ کرنے پر جگوال صاحب کی تحسین کرنا ہے..خیر اب جبکہ بھٹہ انڈسٹری کی طرف سے بھرپور مزاحمت دکھائی گئی تو محکمے نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی.یوں بھٹہ مالکان کو ریلیف ملتا گیا ایک موقع پرجگوال صاحب کی سیکرٹری ماحولیات کے ساتھ میٹنگ میں جب زونز کے غیر قانونی طریقہ پر بات کی گئی تو انکشاف ہوا کہ سیکرٹری صاحب زون کی تقسیم سے واقف ہی نہیں اور ایسا کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں ہوا..پھر بھٹہ مالکان یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارے سابقہ نمائندے جو روز محکمے کے ساتھ میٹنگ کرتے تھے انہیں زونز کی بابت معلومات ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بھٹہ مالکان کو تقسیم کیوں کیے رکھا ؟اور اب بھی انکی خاموشی محکمے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے...اس کے برعکس امجد جگوال ہر محاز پر محکموں اور ان کرداروں کے ساتھ نبرازما ہے...پچھلے دنوں ڈی جی ماحولیات کو جس طرح جگوال نے لاجواب کیا اور نڈر طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کیا وہ قابل دید ہے اب اسی مزاحمت کی بدولت بھٹہ انڈسٹری کااسموگ کا موجب ہونے کا تاثر زائل ہو رہا ہے اب ہر دوسرا شخص بھارتی پنجاب اور پاکستان میں فصلوں کی باقیات اور کڑوڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو سموگ کا مین موجب قرار دے رہا ہے.زگ زیگ پر بھی محکمہ اس بات پر راضی ہے کہ چاہے زگ زیگ نا لگائیں لیکن دھواں سفید کرنے کے لیے اقدامات کریں .کثیر تعداد میں شجر کاری کے موقف کو بھی پذیرائی مل رہی ہے ایسے میں جگوال صاحب کی محنت کی بدولت بھٹہ مالکان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے وزیراعلی پنجاب بھی بھٹے بند نا کرنے کے احکامات دے چکے ہیں ...سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے پھر اچانک........!اچانک سے محکمہ ماحولیات کچھ کرداروں کی تجویز پر بھٹے بند کرنے کی سمری وزیراعلی کو ارسال کرتا ہے جسے منظور کر لیا جاتا ہے یہ وہی کردار ہیں جنہیں اب یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ بھٹہ مالکان ہم سے مایوس ہو رہے ہیں لوگ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے ہم سے ناامید ہو رہے ہیں ..اپنی ساکھ اور بادشاہت کا احساس دلانے کے لیے ان کرداروں نے ہفتوں کے بجائے گھنٹوں میں محکمے کو فیصلے کرانے پر مجبور کر دیا ...اپنے تعاون اور امجد جگوال کی مزاحمت کو بنیاد بنا کر محکمے کو بھٹہ بندش پر مجبور کر دیا..آپ کو یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ ان کرداروں کی مجرمانہ خاموشی اور اپنے آلہ کاروں کے زریعے یہ پیغام کہ بھٹہ بندش میں فائدہ ہے اس بات پر مہر ثبت کر رہی ہے....محکمے اور ان کرداروں کے پاس اب کوئی دلیل نہیں بچی کہ بھٹہ بندش کیوں ہو رہی ہے.موسم بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین ہے.اسموگ نا ہونے کے برابر پے..ایئر انڈیکس کے حوالے سے بعض آلودہ شہر بھی ترجیحات میں شامل نہیں. ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!محمد عمران سیال...!

***غلط فہمیاں اور تدارک***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم...سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...آج کی اس تحریر میں میں اپنے سیکھنے کی روادار بیان کروں گا لیکن یقنا" یہ اس انڈسٹری سے جڑے ہر فرد کی رواداد ہو گی.چند سال پہلے جب زگ زیگ کا شور شروع ہوا تو یہ بھٹہ مالکان اور اس سے جڑے ہر فرد کے لیے آفت کا باعث بنا..وہ اس لیے کہ یہ بلکل ایک نیا طرز عمل تھا اور بنیادی طور پر کوئی بھی اپنے کاروبار کو رسک میں نہیں لینا چاہتا تھا.شروع میں جن حضرات نے زگ زیگ کا پیٹرن اپنایا وہ نقصان میں چلے گئے اور انہیں دیکھ کر باقی بھٹہ مالکان بھی ڈر گئےکہ زگ زیگ تو تباہی ہے.اسی اثنا میں زگ زیگ کی مخالفت میں ایک تحریک شروع ہوئی جسے بھٹہ مالکان کی بھرپور حمایت حاصل ہو گئی اور حکومت اور محکموں کو پریشرائز کرنے کی کوشش شروع ہو گئی کہ کسی طرح اس آفت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے.زگ زیگ پر منتقل ہونے والے دوست بھی لگے رہے اور آہستہ آہستہ وہ زگ زیگ طرز کو سمجھنا شروع ہوگئے .انہوں نے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھا اور انکا نقصان فائدے میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا.محکموں نے جب انکا رزلٹ دیکھا تو انہوں نے کمر کس لی اور زگ زیگ کی پالیسی پر عملدرامد کو مذید تیز کر دیا..میں بذات خود زگ زیگ کا بہت بڑا ناقد رہا ہوں لیکن جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ اب بی ٹے کے بھٹے اتنی آسانی سے نہیں چلانے دیے جائیں گے اور مستقل پریشانی کا باعث بنے رہیں گے تو ہم نے باہمی مشاورت سے تحقیق اور سیکھنے کے عمل کو ترجیح دی..ہم زگ زیگ اور شاورنگ سسٹم کا مطالعہ کرنا شروع ہوئے..زگ زیگ پر ہماری پیشرفت کیسی رہی آپکو بھی بتاتے ہیں..1.سب سے پہلے ہم نے اس کنسپٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ لگانے پر ہمیں ڈبل لیبر کی ضرورت پڑے گی؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں اگر آپ پہلے بی ٹی کے بھٹے پر دس لاکھ اینٹ پکا رہے تھے تو زگ زیگ پر بھی دس لاکھ اینٹ ہی پکے گی آپکو لیبر بڑھانے کی قطعا" ضرورت نہیں البتہ یہ بات آپ کے اختیار میں ضرور آ جاتی ہے آپ زگ زیگ(بلور) کی مدد سے چاہیں تو اس سے زیادہ بھی پکا سکتے ہیں جبکہ بی ٹی کے میں ایسا کرنا ممکن نہیں..2.پھر ہم نے اس پوائنٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ پر صرف کوئلہ ہی جلتا ہے؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں آپ زگ زیگ میں اپنی مرضی کا میٹیرئل جلا سکتے ہیں..اگر آپ کوئلہ جلانا چاہیں تو آپکی مرضی،اگر آپ کچرا جلانا چاہیں تو آپکی مرضی خوش آئند بات یہ ہے کہ جلانے والا میٹیرئل وہی رہے گا لیکن اینٹوں کی کوالٹی زگ زیگ کی وجہ بہتر ضرور ہو جاتی ہے..3..اس بارے میں سوچا گیا کہ اپنی لیبر کو تربیت کیسے فراہم کی جائے؟اسکا حل یہ نکلا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں کوئی نا کوئی زگ زیگ بھٹہ چل رہا ہے ..ہم نے اپنا بھرائی والا مستری اور جلائی والا مستری زگ زیگ بھٹے پر سیکھنے کے لیے بھیجا اور صرف چند دنوں میں وہ اپنا کام کرنے کے قابل ہو گئے..غرض یہ کہ زگ زیگ کو اپنانے میں پہلے جو مسائل تھے وہ کافی حد تک رفع اور آسان ہو چکے ہیں..4.پھر اس بات کی تصدیق کی گئی کہ زگ زیگ کے لیے لازما" گولائیوں کو چورس کرنا پڑتا ہے تو پتہ چلا کہ ایسا کرنا بھی ضروری نہیں بلکہ آگ چورس کے بجائے گولائی میں آسانی سے گزر جاتی ہے..ہم نے اپنے مطالعے کے دوران ہر چیز کو ملحوظ خاطر رکھا غرض یہ کہ جاننے کی کوشش کی کہ زگ زیگ اتنی اچھی ٹیکنالوجی ہے تو لوگوں نے آخر نقصان کیوں کیے...پتہ چلا کہ زگ زیگ بھٹے بھی مختلف تجربات کے بعد اس مرحلے پر پہنچے ہیں..مطلب شروع میں جن لوگوں نے سوچا کہ بجلی یا سولر کی پریشانی سے بچا جائے اور نیچرل ڈرافٹ والے زگ زیگ بھٹوں پر جایا جائے وہ لوگ نقصان میں رہے..لمبی چمنی یعنی نیچرل زگ زیگ والے بہت کم لوگ کامیاب ہوئے ہیں زیادہ تر لوگ نقصانات کر کے زگ زیگ کی مخالفت شروع کر چکے..اس کے بعد بلور کا آپشن بچتا ہے..بلور میں بھی چند چیزوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے..پنکھے والے بلور سے اجتناب کرنا چاہیے.ہمیشہ روٹر سسٹم کے بلور کو ترجیع دینی چاہیے.پنکھے والا بلور بہتر رزلٹ دینے سے قاصر رہتا ہے.لب لباب یہ کہ زگ زیگ کو اپناتے وقت لمبی چمنی اور پنکھے والے بلور سے دور رہ کر نقصان سے بچا جا سکتا ہے.یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تحقیق اور تحریر میری زاتی رائے ہے لازمی نہیں سب اس سے متفق ہوں ہم ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا بھٹہ زگ زیگ پر کنورٹ کر چکے اور یکم دسمبر سے آگ بھی دے چکے..شاورنگ سسٹم کازگ زیگ سے تقابلی جائزہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اسکا اور وقت مقرر کریں گے مختصر عرض یہ ہے کہ اگر عدالت سے دیگر آپشنز پر اجازت مل گئی تو بھی زگ زیگ(بلور) باقی آپشنز سے بہتر ہے میری نظر میں ، اور ضروری نہیں ہر کوئی میری بات سے متفق ہو. کیونکہ انتہائی معمولی خرچے سے زگ زیگ پر منتقل ہوا جا سکتا ہے.جبکہ بی ٹی کے کی نسبت کم میٹریئل اور بہتر کوالٹی اینٹ پلس پوائنٹ ہیں.بشرطیکہ سیکھا جائے, سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...محمد عمران سیال..