🔰🔰#بھٹہ_بندش اور آئندہ لائحہ عمل🔰🔰محترم بھٹہ اونرز اسلام و علیکم....آجکل #بھٹہ_انڈسٹری سے جڑا ہر شخص اس انڈسٹری کو درپیش چیلنجز پر بات کر رہا ہے.سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ہر جگہ بھٹہ انڈسٹری ہی موضوع بحث ہے..بھٹہ جات کی بندش اور اسکے اثرات پر میں بھی بات کرنا چاہوں گا اور سب سے اہم بھٹہ یونین کی تقسیم اور حقائق پر بات کرنا چاہوں گا..پہلی بات تو یہ ہے محکمہ ماحولیات ہر سال زگ زیگ کی پالیسی میں سختی لا رہا ہے اس کی بڑی وجہ بھٹہ یونین کے دو دھڑے ہیں جن میں سے ایک زگ زیگ کی بھرپور حمایت اور دوسرا زگ زیگ کی بھرپور مخالفت پر مشتمل ہے..زگ زیگ کا حمائیتی گروپ جب بھی محکمہ ماحولیات کے دفتر جاتا ہے تو وہاں محکمہ والوں کو زگ زیگ کی خوبیاں بتا بتا کر انکا مورال بلند کر آتا ہے..محکمہ جب اس گروپ کے ساتھ میٹنگ کرتا ہے تو انکا سارا زور زگ زیگ کی طرف ہو جاتا ہے اور انہیں سوائے زگ زیگ کے سب برا لگنے لگ جاتا ہے..اس گروپ نے سب سے پہلے حکومت،پھر محکمے اور پھر عدالتوں کو اس بات کا یقین دلا رکھا ہے کہ زگ زیگ ہی لاسٹ آپشن ہے..مذید یہ کہ زگ زیگ کا حمائیتی گروپ دوسرے گروپ سے ضد لگائے بیٹھا ہے اور محکموں اور حکومت کے کندا استعمال کرتے ہوئے جلد از جلد زگ زیگ پر عملدرامد کرانے کا خواہش مند ہے..اس ضد اور انا کے درمیان بھٹہ انڈسٹری کی تباہی کا سامان کیا جا رہا ہے...دوسری جانب زگ زیگ کا مخالف گروپ جلدی رزلٹ کے چکر میں اپنے سارے رستے بند کیے جا رہا ہے..سب سے پہلے تو حکومتوں کو اس حقیقت سے روشناس کرانا چاہیے کہ بھٹہ بندش سے کتنے معاشی نقصانات ہیں..کتنی بیروزگاری کا خطرہ ہے ..اس انڈسٹری سے جڑے کتنے سیکٹرز ہیں جو براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں..میرے لیے زگ زیگ کا حمائیتی گروپ بھی قابل احترام ہے اور زگ زیگ کا مخالف بھی....میں زگ زیگ لگانے والوں کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کیونکہ یہ حضرات اپنا سرمایہ لگا کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لاکھوں کا نقصان کر چکے ہیں پھر جا کے انہیں کچھ نا کچھ سمجھ آئی اس ٹیکنالوجی کے بارے میں...لیکن یہاں پر ہر بھٹہ مالک اتنا نقصان برداشت نہیں کر سکتا مجھے یاد ہے کہ شہزاد ساہی صاحب جو پاکستان کا سب سے بڑا زگ زیگ بھٹہ چلا رہے ہیں وہ ہمارے پاس بہاولپور آئے اور میٹنگ کے دوران انہوں نے اقرار کیا کہ شروعات میں وہ ستر لاکھ نقصان اٹھا چکے ہیں ...مدعا یہ کہ ہر بھٹہ مالک اتنا نقصان برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا نتیجتا'' کمزور بھٹہ مالک ختم ہو جائیں گے اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو جائیں گے...میری محکمہ ماحولیات اور حکومت سے استدعا ہے کہ معاملے کے اس رخ کو بھی دیکھا جائے بجائے بھٹہ مالکان کو زبردستی زگ زیگ پر لانے کے بجائے رضاکارانہ طور پر سرمایہ دار بھٹہ مالکان کو زگ زیگ لگانے دیا جائے..کمزور بھٹہ مالکان انہیں دیکھ کر سیکھیں گے اور اگر زگ زیگ بھٹہ لگانے والے فائدے میں رہے تو ہر بندہ زگ زیگ پر شفٹ ہو جائے گا کیونکہ زگ زیگ میں بہت سے فائدے ہیں تو کون ہے جو اپنا فائدہ نہیں چاہے گا...اب تک پنجاب کے بائیس ہزار بھٹوں میں سے صرف ہزار دو ہزار ہی زگ زیگ پر شفٹ ہوئے ہیں اور بیشتر نقصان کر کے دوبارہ پرانی بھرائیوں پر آ چکے ہیں..محکمے کو چاہیے کہ کم از کم اتنا ٹائم تو دیا جائے کہ بھٹہ مالک اس ٹیکنالوجی کو سمجھ سکیں اور سیکھ کر آگے بڑھ سکیں..اس طرح ہم ماحولیاتی آلودگی کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہونے سے بھی بچ جائیں گے...دعا ہے اللہ تعالی بھٹہ انڈسٹری کو اس بحران سے جلد از جلد نجات دلائے...#چوہدری_بابر(_صدر ڈسٹرکٹ بہاولپور,,)..

Comments

Popular posts from this blog

پیارے برک کلن مالکان! آج ، میں آپ کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اینٹ بنانا قدرے مشکل اور بعض اوقات خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی بہت سی دیگر صنعتوں سے بھی آسان ہے۔ یہ خاص طور پر سچ ہے اگر آپ نیا زگ زگ طریقہ اپناتے ہیں۔ آئیے فرق معلوم کرنے کے لئے پرانے اور زیگ زگ طریق کار کا موازنہ کریں۔ روایتی طریقہ میں ، اسٹیکنگ دو کچی اینٹوں پر کی جاتی ہے۔ جبکہ زیگ زگ بھٹہ دیوار کی طرح رنگا ہوا ہے۔ پرانے طریقہ کار میں ستون کا پورا وزن صرف دو اینٹوں پر ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹوٹ جاتی تو سارا ستون بیٹھ جاتا۔ زیگ زگ اسٹیکنگ میں صرف 40 ڈگری درجہ حرارت سے نیچے کی لکیر کا رخ تبدیل کرنا ہوتا ہے ، جو روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کہیں کم خطرناک ہے۔ جبکہ پرانے طریقہ کار میں ، مزدور کو 80 ڈگری سنٹی گریڈ کے سکشن ہول میں داخل ہونا پڑا ، جہاں کارکنوں کو لکڑی کے جوتےے پہنائے گئے ہوتے تھے۔ پرانے بھٹے نے آس پاس کی تمام آبادی کو آلودہ کردیا ، جلایوں کے لباس کاربن دھواں اور دیگر گیسوں سے کالے ہوگئے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ زہریلی گیسیں انسانوں ، جانوروں اور کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ زیگ زگ 30 سے ​​35٪ کم کوئلہ اور دیگر ایندھن استعمال کرتا ہے ، جس سے لوگوں کی عمر اور آپ کی جیب کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 20 ملین ٹن کوئلہ بھٹوں سے خرچ ہوتا ہے۔ زیگ زیگ کوئلے کے حجم کو 6 ملین سے 7 ملین ٹن سالانہ تک کم کرتا ہے ، جس سے انفرادی یا قومی سطح پر بھی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح ، لکڑی اور آگ جلانے والے دیگر سامان کو بھی تناسب سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ دل کے مکمل اطمینان کے ساتھ زیگ زگ کو مکمل طور پر شفٹ کروں۔ ہماری آئندہ نسلوں کو دیکھنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے ، جو صرف زیگ زگ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے کام کرنے کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے گیجٹس بھی متعارف کروانا چاہئے۔ ہم نے اپنے بھٹوں پر خطرے والے عوامل اور خطرات کو کم کرنے کے لئے ایک بچاؤ اور تکنیکی کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم اپنی تجاویز اس کمیٹی کو ارسال کریں کہ ہم بھٹوں میں ہونے والے ناخوشگوار حادثات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ، ناخوشگوار حادثات شرمناک اور جعلی این جی اوز کے ذریعہ پھیل جاتے ہیں تاکہ ہماری برادری کو بدنام کیا جاسکے۔ لہذا ، ہمیں جلد از جلد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کاش ہم متاثرہ مزدوروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کریں۔ میں بھی اس ضمن میں آپ کی تجاویز سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر معاشرتی برائیاں ہیں۔ ہم اپنے ملک سے چلڈرن لیبر ، بندہ مزدوری ، آلودگی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ نام نہاد این جی اوز ، اپنے ذاتی مفادات کے تحت ، دنیا میں پہلے ہی ہمیں بدنام کر چکی ہیں۔ میں نے بار بار حکومت ، آئی ایل او ، ہیومن ریسورس کارکنوں ، وزارت محنت اور دیگر آزاد مبصرین کو حقائق کی تلاش کرنے والی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی دعوت دی ہے ، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں ، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جاسکے اور ہمارے ساتھ غیر منصفانہ پروپیگنڈہ کیا جائے۔ غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا - مبالغہ آمیز پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے کے بجائے ، انہیں زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے آنا چاہئے جو بالکل مختلف ہیں۔ ہم ایسی کسی بھی کمیٹی کے ساتھ پورے دل سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ ڈونر ایجنسیوں ، حکومت ، اور آئی این جی اوز کو مکمل طور پر ان لعنتوں سے نجات دلانے کے لئے ہماری سہولت کے لئے آنا چاہئے۔تحریر ،، محمد شعیب خان نیازی چیئرمین (بی کے او اے پی)

***بہروپ اور کردار ***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم.....!آخر بھٹہ انڈسٹری ہی کیوں حکومتی مذاق کا شکار ہے؟آخر کیا وجہ ہے بھٹوں سے متعلق فیصلے دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہونے لگ پڑے؟کون ایسے کردار ہیں جو بھٹہ انڈسٹری کو یرغمال رکھنا چاہتے ہیں؟کون ہیں جو بھٹہ مالکان کے نقصان اور ملکی معاشی استحکام کے خلاف کام کر رہےہیں؟کون ہیں جو ظاہری طور پر محب_وطن جبکہ اندرونی طور پر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟ٹھہریے یہ سب کردار آشکار ہونے والے ہیں ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!بہرحال آپکو یاد ہو گا پچھلے سال محکموں نے پنجاب کے اضلاع کو بھٹوں کے حوالے سے مختلف زونز میں تقسیم کردیا جن میں گرین زون ،ییلو زون اور ریڈ زون شامل تھے..ریڈ زون ایسے اضلاع تھے جنہیں ڈھائی ماہ کے لیے بند کر دیا گیا اور بھٹہ ایسوسی ایشن کے اس وقت کے نمائندے(مہر و نیازی) بھٹہ مالکان کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ حکومت ٹھیک کہہ رہی ہے ..بھٹوں کا دھواں سموگ کی وجہ ہے ہمیں محکموں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،یہ ملک ہمارا ہے اس ملک کی فضا ہماری ہے الغرض اس طرح کی بہت سی دلیلیں یہ نمائندے دیتے رہے محکمہ جات نے ان کے انہی بیانات کو کیش کرایا اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا گیا ڈھائی ماہ کی بندش سے جو نقصان ہوا اسے چھوڑیے لیکن اس بندش نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ واقعی بھٹے ہی سموگ کی وجہ ہے اور خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پچھلے سال(2018) میں سال 2017 کی نسبت کم اسموگ پیدا ہوئی جس کی بڑی وجہ موسم کا ٹھیک ہونا تھا...لیکن بھٹہ بندش نے محکموں کے اس بیانیے کو مضبوط کیا کہ بھٹہ بندش کی وجہ سے اسموگ کم ہوئی اور اسی طرح پچھلے سال یہ تماشہ کامیاب رہا اور ہر فریق(حکومت،محکمے،بھٹہ نمائندے) نے اپنے اپنے حصے کی داد سمیٹی اس ضمن میں بھٹہ ایسوسی ایشن کے سابقہ نمائندوں (مہر و نیازی) نے دو قدم آگے چلتے ہوئےانتہائی عجلت میں بین القوامی این جی او (آئی سی آئی موڈ) کا تجویز کردہ زگ زیگ طریقہ جسے بعد میں نئی ٹیکنالوجی کا نام دے دیا گیا متعارف کروائی..محکموں نے نمائندوں کے اس اقدام کو بھی سراہتے ہوئے زگ زیگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ..زگ زیگ کا بنیادی مقصد سفید دھویں کا اخراج تھا لیکن یہ طریقہ بری طرح ناکام ہوا اور بلیک سموک کے ساتھ ساتھ اس طریقے نے بھٹہ مالکان کا کڑوڑوں کا نقصان کرایا سوشل میڈیا پر زگ زیگ کے بلیک سموک کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں پھر بھی اس طریقہ کو لانے والے محکمے کے ساتھ مل کر زبردستی عملدرامد اور بھٹہ مالکان کا نقصان کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں.زگ زیگ کی تباہ کاریوں اور ناکامی پر لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن آگے چلتے ہیں..2018 میں زونز کے شوشے کی زبردستی کامیابی کے بعد اس سال بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی..اب بھی سابقہ نمائندے حب الوطنی کا درس دیتے رہے اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کا موجب قرار دیتے رہے لیکن اب کی بار ایک مرد مجاہد امجد خان جگوال نے بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کی کمان سنبھالی تو پورے پاکستان سے بھٹہ مالکان نے جگوال کی کال پر لبیک کہا..مداح سرائی اس تحریر کا مقصد نہیں بلکہ بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کا تحفظ کرنے پر جگوال صاحب کی تحسین کرنا ہے..خیر اب جبکہ بھٹہ انڈسٹری کی طرف سے بھرپور مزاحمت دکھائی گئی تو محکمے نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی.یوں بھٹہ مالکان کو ریلیف ملتا گیا ایک موقع پرجگوال صاحب کی سیکرٹری ماحولیات کے ساتھ میٹنگ میں جب زونز کے غیر قانونی طریقہ پر بات کی گئی تو انکشاف ہوا کہ سیکرٹری صاحب زون کی تقسیم سے واقف ہی نہیں اور ایسا کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں ہوا..پھر بھٹہ مالکان یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارے سابقہ نمائندے جو روز محکمے کے ساتھ میٹنگ کرتے تھے انہیں زونز کی بابت معلومات ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بھٹہ مالکان کو تقسیم کیوں کیے رکھا ؟اور اب بھی انکی خاموشی محکمے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے...اس کے برعکس امجد جگوال ہر محاز پر محکموں اور ان کرداروں کے ساتھ نبرازما ہے...پچھلے دنوں ڈی جی ماحولیات کو جس طرح جگوال نے لاجواب کیا اور نڈر طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کیا وہ قابل دید ہے اب اسی مزاحمت کی بدولت بھٹہ انڈسٹری کااسموگ کا موجب ہونے کا تاثر زائل ہو رہا ہے اب ہر دوسرا شخص بھارتی پنجاب اور پاکستان میں فصلوں کی باقیات اور کڑوڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو سموگ کا مین موجب قرار دے رہا ہے.زگ زیگ پر بھی محکمہ اس بات پر راضی ہے کہ چاہے زگ زیگ نا لگائیں لیکن دھواں سفید کرنے کے لیے اقدامات کریں .کثیر تعداد میں شجر کاری کے موقف کو بھی پذیرائی مل رہی ہے ایسے میں جگوال صاحب کی محنت کی بدولت بھٹہ مالکان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے وزیراعلی پنجاب بھی بھٹے بند نا کرنے کے احکامات دے چکے ہیں ...سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے پھر اچانک........!اچانک سے محکمہ ماحولیات کچھ کرداروں کی تجویز پر بھٹے بند کرنے کی سمری وزیراعلی کو ارسال کرتا ہے جسے منظور کر لیا جاتا ہے یہ وہی کردار ہیں جنہیں اب یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ بھٹہ مالکان ہم سے مایوس ہو رہے ہیں لوگ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے ہم سے ناامید ہو رہے ہیں ..اپنی ساکھ اور بادشاہت کا احساس دلانے کے لیے ان کرداروں نے ہفتوں کے بجائے گھنٹوں میں محکمے کو فیصلے کرانے پر مجبور کر دیا ...اپنے تعاون اور امجد جگوال کی مزاحمت کو بنیاد بنا کر محکمے کو بھٹہ بندش پر مجبور کر دیا..آپ کو یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ ان کرداروں کی مجرمانہ خاموشی اور اپنے آلہ کاروں کے زریعے یہ پیغام کہ بھٹہ بندش میں فائدہ ہے اس بات پر مہر ثبت کر رہی ہے....محکمے اور ان کرداروں کے پاس اب کوئی دلیل نہیں بچی کہ بھٹہ بندش کیوں ہو رہی ہے.موسم بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین ہے.اسموگ نا ہونے کے برابر پے..ایئر انڈیکس کے حوالے سے بعض آلودہ شہر بھی ترجیحات میں شامل نہیں. ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!محمد عمران سیال...!

***غلط فہمیاں اور تدارک***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم...سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...آج کی اس تحریر میں میں اپنے سیکھنے کی روادار بیان کروں گا لیکن یقنا" یہ اس انڈسٹری سے جڑے ہر فرد کی رواداد ہو گی.چند سال پہلے جب زگ زیگ کا شور شروع ہوا تو یہ بھٹہ مالکان اور اس سے جڑے ہر فرد کے لیے آفت کا باعث بنا..وہ اس لیے کہ یہ بلکل ایک نیا طرز عمل تھا اور بنیادی طور پر کوئی بھی اپنے کاروبار کو رسک میں نہیں لینا چاہتا تھا.شروع میں جن حضرات نے زگ زیگ کا پیٹرن اپنایا وہ نقصان میں چلے گئے اور انہیں دیکھ کر باقی بھٹہ مالکان بھی ڈر گئےکہ زگ زیگ تو تباہی ہے.اسی اثنا میں زگ زیگ کی مخالفت میں ایک تحریک شروع ہوئی جسے بھٹہ مالکان کی بھرپور حمایت حاصل ہو گئی اور حکومت اور محکموں کو پریشرائز کرنے کی کوشش شروع ہو گئی کہ کسی طرح اس آفت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے.زگ زیگ پر منتقل ہونے والے دوست بھی لگے رہے اور آہستہ آہستہ وہ زگ زیگ طرز کو سمجھنا شروع ہوگئے .انہوں نے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھا اور انکا نقصان فائدے میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا.محکموں نے جب انکا رزلٹ دیکھا تو انہوں نے کمر کس لی اور زگ زیگ کی پالیسی پر عملدرامد کو مذید تیز کر دیا..میں بذات خود زگ زیگ کا بہت بڑا ناقد رہا ہوں لیکن جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ اب بی ٹے کے بھٹے اتنی آسانی سے نہیں چلانے دیے جائیں گے اور مستقل پریشانی کا باعث بنے رہیں گے تو ہم نے باہمی مشاورت سے تحقیق اور سیکھنے کے عمل کو ترجیح دی..ہم زگ زیگ اور شاورنگ سسٹم کا مطالعہ کرنا شروع ہوئے..زگ زیگ پر ہماری پیشرفت کیسی رہی آپکو بھی بتاتے ہیں..1.سب سے پہلے ہم نے اس کنسپٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ لگانے پر ہمیں ڈبل لیبر کی ضرورت پڑے گی؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں اگر آپ پہلے بی ٹی کے بھٹے پر دس لاکھ اینٹ پکا رہے تھے تو زگ زیگ پر بھی دس لاکھ اینٹ ہی پکے گی آپکو لیبر بڑھانے کی قطعا" ضرورت نہیں البتہ یہ بات آپ کے اختیار میں ضرور آ جاتی ہے آپ زگ زیگ(بلور) کی مدد سے چاہیں تو اس سے زیادہ بھی پکا سکتے ہیں جبکہ بی ٹی کے میں ایسا کرنا ممکن نہیں..2.پھر ہم نے اس پوائنٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ پر صرف کوئلہ ہی جلتا ہے؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں آپ زگ زیگ میں اپنی مرضی کا میٹیرئل جلا سکتے ہیں..اگر آپ کوئلہ جلانا چاہیں تو آپکی مرضی،اگر آپ کچرا جلانا چاہیں تو آپکی مرضی خوش آئند بات یہ ہے کہ جلانے والا میٹیرئل وہی رہے گا لیکن اینٹوں کی کوالٹی زگ زیگ کی وجہ بہتر ضرور ہو جاتی ہے..3..اس بارے میں سوچا گیا کہ اپنی لیبر کو تربیت کیسے فراہم کی جائے؟اسکا حل یہ نکلا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں کوئی نا کوئی زگ زیگ بھٹہ چل رہا ہے ..ہم نے اپنا بھرائی والا مستری اور جلائی والا مستری زگ زیگ بھٹے پر سیکھنے کے لیے بھیجا اور صرف چند دنوں میں وہ اپنا کام کرنے کے قابل ہو گئے..غرض یہ کہ زگ زیگ کو اپنانے میں پہلے جو مسائل تھے وہ کافی حد تک رفع اور آسان ہو چکے ہیں..4.پھر اس بات کی تصدیق کی گئی کہ زگ زیگ کے لیے لازما" گولائیوں کو چورس کرنا پڑتا ہے تو پتہ چلا کہ ایسا کرنا بھی ضروری نہیں بلکہ آگ چورس کے بجائے گولائی میں آسانی سے گزر جاتی ہے..ہم نے اپنے مطالعے کے دوران ہر چیز کو ملحوظ خاطر رکھا غرض یہ کہ جاننے کی کوشش کی کہ زگ زیگ اتنی اچھی ٹیکنالوجی ہے تو لوگوں نے آخر نقصان کیوں کیے...پتہ چلا کہ زگ زیگ بھٹے بھی مختلف تجربات کے بعد اس مرحلے پر پہنچے ہیں..مطلب شروع میں جن لوگوں نے سوچا کہ بجلی یا سولر کی پریشانی سے بچا جائے اور نیچرل ڈرافٹ والے زگ زیگ بھٹوں پر جایا جائے وہ لوگ نقصان میں رہے..لمبی چمنی یعنی نیچرل زگ زیگ والے بہت کم لوگ کامیاب ہوئے ہیں زیادہ تر لوگ نقصانات کر کے زگ زیگ کی مخالفت شروع کر چکے..اس کے بعد بلور کا آپشن بچتا ہے..بلور میں بھی چند چیزوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے..پنکھے والے بلور سے اجتناب کرنا چاہیے.ہمیشہ روٹر سسٹم کے بلور کو ترجیع دینی چاہیے.پنکھے والا بلور بہتر رزلٹ دینے سے قاصر رہتا ہے.لب لباب یہ کہ زگ زیگ کو اپناتے وقت لمبی چمنی اور پنکھے والے بلور سے دور رہ کر نقصان سے بچا جا سکتا ہے.یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تحقیق اور تحریر میری زاتی رائے ہے لازمی نہیں سب اس سے متفق ہوں ہم ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا بھٹہ زگ زیگ پر کنورٹ کر چکے اور یکم دسمبر سے آگ بھی دے چکے..شاورنگ سسٹم کازگ زیگ سے تقابلی جائزہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اسکا اور وقت مقرر کریں گے مختصر عرض یہ ہے کہ اگر عدالت سے دیگر آپشنز پر اجازت مل گئی تو بھی زگ زیگ(بلور) باقی آپشنز سے بہتر ہے میری نظر میں ، اور ضروری نہیں ہر کوئی میری بات سے متفق ہو. کیونکہ انتہائی معمولی خرچے سے زگ زیگ پر منتقل ہوا جا سکتا ہے.جبکہ بی ٹی کے کی نسبت کم میٹریئل اور بہتر کوالٹی اینٹ پلس پوائنٹ ہیں.بشرطیکہ سیکھا جائے, سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...محمد عمران سیال..