**** تبدیلیاں****معزز بھٹہ مالکان و اس انڈسٹری سے جڑے تمام افراد ... اسلام و علیکم....تبدیلی ایک دم سے نہیں آتی ،تبدیلی کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے بھونچال آنے کی سی کیفیت ہوتی ہے لیکن جب تبدیلی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے...آج کی اس تحریر میں ہم ان تبدیلیوں پر بھی بات کریں گے جو وقوع پذیر ہو چکی ہیں اور ان پر بھی بات کریں گے جو ممکنہ طور پر آگے آئیں گی..سب سے پہلے اگر ہم ایجادات کو دیکھیں تو پرانے زمانوں میں پیغام رسانی کے لیے خط و کتابت کا سہارا لیا جاتا تھا جس میں مہینوں درکار ہوتے تھے پھر لینڈ لائن ٹیلی فون کی ایجاد ہوئی تو یہ کام منٹوں میں ہونے لگا پھر موبائیل فون ایجاد ہوا تو کام اور بھی آسان ہو گیا اور اب موبائیل فون کی جگہ سمارٹ فون نے لے لی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا ہماری جیب میں ہے ہم آواز کے ساتھ ساتھ ویڈیوز بھی دیکھ سکتے ہیں سوچیے کیا ہوتا اگر ہم اجتہاد کو اپناتے ہوئے تبدیلی کو ترجیع نا دیتے اور اسی خط و کتابت کو چپکے رہتے تو آج زندگیوں میں اتنی آسانی نا ہوتی...یہ تو ایک سادہ سی مثال ہے اور اس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں چونکہ ہمارا موضوع بھٹہ انڈسٹری ہے تو ہم اسی کی تبدیلیوں کی بات کریں گے..تقریباً پرانے وقتوں میں اینٹیں زیادہ تر بھٹیوں میں پکائی جاتی تھی اور وہاں پر اینٹیں پکانے کی کیپیسٹی محدود ہوتی تھی ..پھر ان بھٹیوں کی جگہ بڑے بھٹوں نے لی جن میں زیادہ اینٹیں بنانے کی صلاحیت تھی یقیناً جب بھٹیوں سے بڑے بھٹے پر تبدیلی کو ترجیع دی گئی ہو گی تو بھٹیوں کی نسبت بھٹوں میں مال ضرور خراب ہوا ہو گا کیونکہ اس وقت اتنی زیادہ تعداد میں اینٹوں کو پکانے کا تجربہ موجود نہیں تھا تو نقصان بھی ضرور ہوتا رہا ہو گا ناتجربہ کاری کی وجہ سے ...لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے نقصان پر برا بھلا کسے کہا گیا ہو گا..اس کے بعد جب بھٹے آ گئےتو اس میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئی..پہلے بھٹوں کی چمنیاں فکس نہیں ہوتی تھی اور انہیں ایک جگہ سے اٹھا کے دوسری جگہ رکھ دیا جاتا تھا پھر ان چمنیوں کی جگہ فکسڈ چمنیوں نے لی جنہیں ایک مخصوص جگہ پر تعمیر کیا جاتا ہے اور انہیں بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی کیا ہوتا اگر ہم انہیں پرانی چمنیوں کو چپکے رہتے اور فکسڈ چمنی پر تبدیلی کو ترجیع نا دیتے..اب ان فکسڈ چمنیوں کی جگہ بھی بلور نے لے لی ہے اور جو لوگ اس تبدیلی کو اپنا چکے ہیں وہ ضرور جانتے ہیں کہ کس طرح سے بلور نے چمنیوں کی پریشانی سے جان چھڑا دی ہے...وضاحت کرتا چلوں کہ میں نے بلور کو زگ زیگ سے منسوب نہیں کیا بلکہ اسکا تعلق آپکی چمنی سے ہے جو کام روائتی چمنیاں نہیں کر سکتی وہ بلور کر سکتا ہے اور چمنی اپنی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے جبکہ بلور آپکی مرضی اور ضرورت کے مطابق کام کرتا ہے یقیناً یہ تبدیلی بھٹہ انڈسٹری کے بہت سے مسائل کا حل ہے..اب بات کرتے ہیں بھرائی کی..بھرائی میں بھی بہت سی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں.جو کچھ مجھے تحقیق سے حاصل ہوا میں انکی بات کروں گا ہو سکتا ہے لکھے گئے طریقوں سے بھی زیادہ طریقے رائج رہے ہوں.. پہلے پہل بھٹوں پر نمبری بھرائی رائج تھی اور اسکا طریقہ بہت سادہ تھا دو پایوں کے درمیان بہت سی خالی جگہ چھوڑ دی جاتی تھی جس میں لکڑی جلائی جاتی تھی ..لکڑی کے علاوہ کوئی میٹیریل اس بھرائی میں نہیں جلایا جاتا تھا..وہ بھرائی انتہائی خطرناک ہوتی تھی اور بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی تھی.اس کے بعد پاکٹی بھرائی کا طریقہ رائج ہوا ،نمبری بھرائی سے جیسے ہی پاکٹی بھرائی شروع کی گئی تو لوگ آہستہ آہستہ اسے سمجتے اور اپناتے گئے..نمبری بھرائی اور پاکٹی کا موازنہ کریں تو پاکٹی کافی حد تک محفوظ ہو گئی کیونکہ پایوں کے درمیان جو خلا ہوتا تھا اسے پاکٹوں نے پر کر دیا مذید یہ کہ بھٹے میں مال بھی زیادہ پکنے لگا لیکن ساتھ ساتھ نقصان بھی بڑھ گیا..نقصان اس لیے کہ ناتجربہ کاری تھی سمجنے میں وقت لگ گیا..آج بھی لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمارا لاکھوں کا نقصان ہو گیا وجہ پوچھی جائے تو کہا جاتا ہے کہ چمنی ٹھیک نہیں ہے یا بھرائی ٹھیک نہیں..نمبری بھرائی سے پاکٹی پر تبدیلی اور اسے سیکھتے سیکھتے ابھی تک بھی لوگوں کا نقصان ہو جاتا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ کسی فرد کو برا بھلا کہنے کے بجائے چمنی یا بھرائی کا نقص نکالا جاتا ہے..مذید آگے چلتے ہیں نمبری سے جب پاکٹی پر تبدیلی مکمل ہوئی تو اب پاکٹی سے بہتر زگ زیگ بھرائی آ گئی ہے..ابھی بنیادی سوال یہ ہے کہ زگ زیگ میں پاکٹی سے بہتر کیا ہے..یہ بتاتے ہوئے تو زمانہ بیت گیا لیکن ہر بار سمجھنے والوں کی تعداد میں کچھ نا کچھ اضافہ ہو جاتا ہے اسی لیے ایک بار اور سہی...زگ زیگ کا سب سے اہم فائدہ تو یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی تک اینٹ تیار کر سکتے ہو آپ چاہیں تو پہلے کی طرح روزانہ تیس ہزار اینٹ تیار کریں آپ چاہیں تو روزانہ ایک لاکھ اینٹ تیار کریں..بھرائی کے بہتر پیٹرن کی وجہ سے فی پائے میں اینٹوں کی کیپیسٹی بڑھ جاتی ہے اور بھٹے کے پائیوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے..اس سے اہم یہ کہ زگ زیگ بھرائی ہی ہے جو ایمیشنز کو کنٹرول کرتی ہے وجہ یہ کہ ہر پانچ پائیوں کے بعد لگے چیمبر آگ کو فل کیپیسٹی میں روکے رکھتے ہیں اور کاربن کے زرات مکمل طور پر جل جاتے ہیں ..اور سب سے اہم اور فائدہ مند بات یہ ہے کہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے اگر آپکا مال خراب ہو گیا تو کچھ ایسے افراد بھی موجود ہے جنہیں آپ برا بھلا کہہ سکتے ہیں یہ سہولت سابقہ کسی بھی تبدیلی میں میسر نہیں رہی...جہاں تک آنے والی تبدیلیوں کی بات ہے تو ہم اب بھی باقی دنیا سے پیچھے ہیں کہ دنیا ٹنل طریقہ کار اور اس سے بھی آگے کی کھوج میں ہے...یہ تو طے ہےتبدیلی ایک دم سے نہیں آتی ،تبدیلی کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے بھونچال آنے کی سی کیفیت ہوتی ہے لیکن جب تبدیلی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے تو سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے...محمد عمران سیال......

Comments

Popular posts from this blog

پیارے برک کلن مالکان! آج ، میں آپ کے سامنے کچھ گذارشات رکھنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اینٹ بنانا قدرے مشکل اور بعض اوقات خطرناک ہوتا ہے۔ لیکن یہ پاکستان کی بہت سی دیگر صنعتوں سے بھی آسان ہے۔ یہ خاص طور پر سچ ہے اگر آپ نیا زگ زگ طریقہ اپناتے ہیں۔ آئیے فرق معلوم کرنے کے لئے پرانے اور زیگ زگ طریق کار کا موازنہ کریں۔ روایتی طریقہ میں ، اسٹیکنگ دو کچی اینٹوں پر کی جاتی ہے۔ جبکہ زیگ زگ بھٹہ دیوار کی طرح رنگا ہوا ہے۔ پرانے طریقہ کار میں ستون کا پورا وزن صرف دو اینٹوں پر ہے۔ اگر ایک اینٹ ٹوٹ جاتی تو سارا ستون بیٹھ جاتا۔ زیگ زگ اسٹیکنگ میں صرف 40 ڈگری درجہ حرارت سے نیچے کی لکیر کا رخ تبدیل کرنا ہوتا ہے ، جو روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں کہیں کم خطرناک ہے۔ جبکہ پرانے طریقہ کار میں ، مزدور کو 80 ڈگری سنٹی گریڈ کے سکشن ہول میں داخل ہونا پڑا ، جہاں کارکنوں کو لکڑی کے جوتےے پہنائے گئے ہوتے تھے۔ پرانے بھٹے نے آس پاس کی تمام آبادی کو آلودہ کردیا ، جلایوں کے لباس کاربن دھواں اور دیگر گیسوں سے کالے ہوگئے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ یہ زہریلی گیسیں انسانوں ، جانوروں اور کھیتوں کو کتنا نقصان پہنچا سکتی ہیں؟ زیگ زگ 30 سے ​​35٪ کم کوئلہ اور دیگر ایندھن استعمال کرتا ہے ، جس سے لوگوں کی عمر اور آپ کی جیب کا سائز بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 20 ملین ٹن کوئلہ بھٹوں سے خرچ ہوتا ہے۔ زیگ زیگ کوئلے کے حجم کو 6 ملین سے 7 ملین ٹن سالانہ تک کم کرتا ہے ، جس سے انفرادی یا قومی سطح پر بھی آلودگی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ اسی طرح ، لکڑی اور آگ جلانے والے دیگر سامان کو بھی تناسب سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ دل کے مکمل اطمینان کے ساتھ زیگ زگ کو مکمل طور پر شفٹ کروں۔ ہماری آئندہ نسلوں کو دیکھنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے ، جو صرف زیگ زگ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں اپنے کام کرنے کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے گیجٹس بھی متعارف کروانا چاہئے۔ ہم نے اپنے بھٹوں پر خطرے والے عوامل اور خطرات کو کم کرنے کے لئے ایک بچاؤ اور تکنیکی کمیٹی تشکیل دینی ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم اپنی تجاویز اس کمیٹی کو ارسال کریں کہ ہم بھٹوں میں ہونے والے ناخوشگوار حادثات کو کس طرح کم کرسکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ، ناخوشگوار حادثات شرمناک اور جعلی این جی اوز کے ذریعہ پھیل جاتے ہیں تاکہ ہماری برادری کو بدنام کیا جاسکے۔ لہذا ، ہمیں جلد از جلد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کاش ہم متاثرہ مزدوروں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ایک خصوصی فنڈ بھی قائم کریں۔ میں بھی اس ضمن میں آپ کی تجاویز سے اتفاق کرتا ہوں۔ ہمیں یقین ہے کہ بانڈڈ لیبر اور چائلڈ لیبر معاشرتی برائیاں ہیں۔ ہم اپنے ملک سے چلڈرن لیبر ، بندہ مزدوری ، آلودگی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ نام نہاد این جی اوز ، اپنے ذاتی مفادات کے تحت ، دنیا میں پہلے ہی ہمیں بدنام کر چکی ہیں۔ میں نے بار بار حکومت ، آئی ایل او ، ہیومن ریسورس کارکنوں ، وزارت محنت اور دیگر آزاد مبصرین کو حقائق کی تلاش کرنے والی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی دعوت دی ہے ، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں ، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جاسکے اور ہمارے ساتھ غیر منصفانہ پروپیگنڈہ کیا جائے۔ غیر سرکاری تنظیموں اور میڈیا - مبالغہ آمیز پروپیگنڈوں سے متاثر ہونے کے بجائے ، انہیں زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے آنا چاہئے جو بالکل مختلف ہیں۔ ہم ایسی کسی بھی کمیٹی کے ساتھ پورے دل سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ ڈونر ایجنسیوں ، حکومت ، اور آئی این جی اوز کو مکمل طور پر ان لعنتوں سے نجات دلانے کے لئے ہماری سہولت کے لئے آنا چاہئے۔تحریر ،، محمد شعیب خان نیازی چیئرمین (بی کے او اے پی)

***بہروپ اور کردار ***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم.....!آخر بھٹہ انڈسٹری ہی کیوں حکومتی مذاق کا شکار ہے؟آخر کیا وجہ ہے بھٹوں سے متعلق فیصلے دنوں میں نہیں بلکہ گھنٹوں میں ہونے لگ پڑے؟کون ایسے کردار ہیں جو بھٹہ انڈسٹری کو یرغمال رکھنا چاہتے ہیں؟کون ہیں جو بھٹہ مالکان کے نقصان اور ملکی معاشی استحکام کے خلاف کام کر رہےہیں؟کون ہیں جو ظاہری طور پر محب_وطن جبکہ اندرونی طور پر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟ٹھہریے یہ سب کردار آشکار ہونے والے ہیں ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!بہرحال آپکو یاد ہو گا پچھلے سال محکموں نے پنجاب کے اضلاع کو بھٹوں کے حوالے سے مختلف زونز میں تقسیم کردیا جن میں گرین زون ،ییلو زون اور ریڈ زون شامل تھے..ریڈ زون ایسے اضلاع تھے جنہیں ڈھائی ماہ کے لیے بند کر دیا گیا اور بھٹہ ایسوسی ایشن کے اس وقت کے نمائندے(مہر و نیازی) بھٹہ مالکان کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ حکومت ٹھیک کہہ رہی ہے ..بھٹوں کا دھواں سموگ کی وجہ ہے ہمیں محکموں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،یہ ملک ہمارا ہے اس ملک کی فضا ہماری ہے الغرض اس طرح کی بہت سی دلیلیں یہ نمائندے دیتے رہے محکمہ جات نے ان کے انہی بیانات کو کیش کرایا اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا گیا ڈھائی ماہ کی بندش سے جو نقصان ہوا اسے چھوڑیے لیکن اس بندش نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ واقعی بھٹے ہی سموگ کی وجہ ہے اور خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ پچھلے سال(2018) میں سال 2017 کی نسبت کم اسموگ پیدا ہوئی جس کی بڑی وجہ موسم کا ٹھیک ہونا تھا...لیکن بھٹہ بندش نے محکموں کے اس بیانیے کو مضبوط کیا کہ بھٹہ بندش کی وجہ سے اسموگ کم ہوئی اور اسی طرح پچھلے سال یہ تماشہ کامیاب رہا اور ہر فریق(حکومت،محکمے،بھٹہ نمائندے) نے اپنے اپنے حصے کی داد سمیٹی اس ضمن میں بھٹہ ایسوسی ایشن کے سابقہ نمائندوں (مہر و نیازی) نے دو قدم آگے چلتے ہوئےانتہائی عجلت میں بین القوامی این جی او (آئی سی آئی موڈ) کا تجویز کردہ زگ زیگ طریقہ جسے بعد میں نئی ٹیکنالوجی کا نام دے دیا گیا متعارف کروائی..محکموں نے نمائندوں کے اس اقدام کو بھی سراہتے ہوئے زگ زیگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ..زگ زیگ کا بنیادی مقصد سفید دھویں کا اخراج تھا لیکن یہ طریقہ بری طرح ناکام ہوا اور بلیک سموک کے ساتھ ساتھ اس طریقے نے بھٹہ مالکان کا کڑوڑوں کا نقصان کرایا سوشل میڈیا پر زگ زیگ کے بلیک سموک کی بہت سی ویڈیوز موجود ہیں پھر بھی اس طریقہ کو لانے والے محکمے کے ساتھ مل کر زبردستی عملدرامد اور بھٹہ مالکان کا نقصان کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں.زگ زیگ کی تباہ کاریوں اور ناکامی پر لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن آگے چلتے ہیں..2018 میں زونز کے شوشے کی زبردستی کامیابی کے بعد اس سال بھی وہی کھیل کھیلنے کی کوشش کی گئی..اب بھی سابقہ نمائندے حب الوطنی کا درس دیتے رہے اور بھٹہ انڈسٹری کو اسموگ کا موجب قرار دیتے رہے لیکن اب کی بار ایک مرد مجاہد امجد خان جگوال نے بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کی کمان سنبھالی تو پورے پاکستان سے بھٹہ مالکان نے جگوال کی کال پر لبیک کہا..مداح سرائی اس تحریر کا مقصد نہیں بلکہ بھٹہ انڈسٹری کے مفاد کا تحفظ کرنے پر جگوال صاحب کی تحسین کرنا ہے..خیر اب جبکہ بھٹہ انڈسٹری کی طرف سے بھرپور مزاحمت دکھائی گئی تو محکمے نے اپنی پالیسی پر نظر ثانی شروع کر دی.یوں بھٹہ مالکان کو ریلیف ملتا گیا ایک موقع پرجگوال صاحب کی سیکرٹری ماحولیات کے ساتھ میٹنگ میں جب زونز کے غیر قانونی طریقہ پر بات کی گئی تو انکشاف ہوا کہ سیکرٹری صاحب زون کی تقسیم سے واقف ہی نہیں اور ایسا کوئی آفیشل نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں ہوا..پھر بھٹہ مالکان یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ ہمارے سابقہ نمائندے جو روز محکمے کے ساتھ میٹنگ کرتے تھے انہیں زونز کی بابت معلومات ہونے کے باوجود بھی انہوں نے بھٹہ مالکان کو تقسیم کیوں کیے رکھا ؟اور اب بھی انکی خاموشی محکمے کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہے...اس کے برعکس امجد جگوال ہر محاز پر محکموں اور ان کرداروں کے ساتھ نبرازما ہے...پچھلے دنوں ڈی جی ماحولیات کو جس طرح جگوال نے لاجواب کیا اور نڈر طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کیا وہ قابل دید ہے اب اسی مزاحمت کی بدولت بھٹہ انڈسٹری کااسموگ کا موجب ہونے کا تاثر زائل ہو رہا ہے اب ہر دوسرا شخص بھارتی پنجاب اور پاکستان میں فصلوں کی باقیات اور کڑوڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کو سموگ کا مین موجب قرار دے رہا ہے.زگ زیگ پر بھی محکمہ اس بات پر راضی ہے کہ چاہے زگ زیگ نا لگائیں لیکن دھواں سفید کرنے کے لیے اقدامات کریں .کثیر تعداد میں شجر کاری کے موقف کو بھی پذیرائی مل رہی ہے ایسے میں جگوال صاحب کی محنت کی بدولت بھٹہ مالکان کا اعتماد بحال ہو رہا ہے وزیراعلی پنجاب بھی بھٹے بند نا کرنے کے احکامات دے چکے ہیں ...سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے پھر اچانک........!اچانک سے محکمہ ماحولیات کچھ کرداروں کی تجویز پر بھٹے بند کرنے کی سمری وزیراعلی کو ارسال کرتا ہے جسے منظور کر لیا جاتا ہے یہ وہی کردار ہیں جنہیں اب یہ احساس کھائے جا رہا ہے کہ بھٹہ مالکان ہم سے مایوس ہو رہے ہیں لوگ ہمارے پاس نہیں آنا چاہتے ہم سے ناامید ہو رہے ہیں ..اپنی ساکھ اور بادشاہت کا احساس دلانے کے لیے ان کرداروں نے ہفتوں کے بجائے گھنٹوں میں محکمے کو فیصلے کرانے پر مجبور کر دیا ...اپنے تعاون اور امجد جگوال کی مزاحمت کو بنیاد بنا کر محکمے کو بھٹہ بندش پر مجبور کر دیا..آپ کو یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ ان کرداروں کی مجرمانہ خاموشی اور اپنے آلہ کاروں کے زریعے یہ پیغام کہ بھٹہ بندش میں فائدہ ہے اس بات پر مہر ثبت کر رہی ہے....محکمے اور ان کرداروں کے پاس اب کوئی دلیل نہیں بچی کہ بھٹہ بندش کیوں ہو رہی ہے.موسم بہتر ہی نہیں بلکہ بہترین ہے.اسموگ نا ہونے کے برابر پے..ایئر انڈیکس کے حوالے سے بعض آلودہ شہر بھی ترجیحات میں شامل نہیں. ہم انہیں انکے بہروپ سمیت پہچان چکے ہیں باقی نا سمجھنے والے دوست بھی تب انہیں جان جائیں گے جب یہ تنگی_سانس کی بدولت اپنے چہروں سے ماسک اتاریں گیں......!محمد عمران سیال...!

***غلط فہمیاں اور تدارک***معزز بھٹہ مالکان اسلام علیکم...سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...آج کی اس تحریر میں میں اپنے سیکھنے کی روادار بیان کروں گا لیکن یقنا" یہ اس انڈسٹری سے جڑے ہر فرد کی رواداد ہو گی.چند سال پہلے جب زگ زیگ کا شور شروع ہوا تو یہ بھٹہ مالکان اور اس سے جڑے ہر فرد کے لیے آفت کا باعث بنا..وہ اس لیے کہ یہ بلکل ایک نیا طرز عمل تھا اور بنیادی طور پر کوئی بھی اپنے کاروبار کو رسک میں نہیں لینا چاہتا تھا.شروع میں جن حضرات نے زگ زیگ کا پیٹرن اپنایا وہ نقصان میں چلے گئے اور انہیں دیکھ کر باقی بھٹہ مالکان بھی ڈر گئےکہ زگ زیگ تو تباہی ہے.اسی اثنا میں زگ زیگ کی مخالفت میں ایک تحریک شروع ہوئی جسے بھٹہ مالکان کی بھرپور حمایت حاصل ہو گئی اور حکومت اور محکموں کو پریشرائز کرنے کی کوشش شروع ہو گئی کہ کسی طرح اس آفت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے.زگ زیگ پر منتقل ہونے والے دوست بھی لگے رہے اور آہستہ آہستہ وہ زگ زیگ طرز کو سمجھنا شروع ہوگئے .انہوں نے سیکھنے کے عمل کو جاری رکھا اور انکا نقصان فائدے میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا.محکموں نے جب انکا رزلٹ دیکھا تو انہوں نے کمر کس لی اور زگ زیگ کی پالیسی پر عملدرامد کو مذید تیز کر دیا..میں بذات خود زگ زیگ کا بہت بڑا ناقد رہا ہوں لیکن جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ اب بی ٹے کے بھٹے اتنی آسانی سے نہیں چلانے دیے جائیں گے اور مستقل پریشانی کا باعث بنے رہیں گے تو ہم نے باہمی مشاورت سے تحقیق اور سیکھنے کے عمل کو ترجیح دی..ہم زگ زیگ اور شاورنگ سسٹم کا مطالعہ کرنا شروع ہوئے..زگ زیگ پر ہماری پیشرفت کیسی رہی آپکو بھی بتاتے ہیں..1.سب سے پہلے ہم نے اس کنسپٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ لگانے پر ہمیں ڈبل لیبر کی ضرورت پڑے گی؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں اگر آپ پہلے بی ٹی کے بھٹے پر دس لاکھ اینٹ پکا رہے تھے تو زگ زیگ پر بھی دس لاکھ اینٹ ہی پکے گی آپکو لیبر بڑھانے کی قطعا" ضرورت نہیں البتہ یہ بات آپ کے اختیار میں ضرور آ جاتی ہے آپ زگ زیگ(بلور) کی مدد سے چاہیں تو اس سے زیادہ بھی پکا سکتے ہیں جبکہ بی ٹی کے میں ایسا کرنا ممکن نہیں..2.پھر ہم نے اس پوائنٹ کو دیکھا کہ واقعی زگ زیگ پر صرف کوئلہ ہی جلتا ہے؟تو حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں آپ زگ زیگ میں اپنی مرضی کا میٹیرئل جلا سکتے ہیں..اگر آپ کوئلہ جلانا چاہیں تو آپکی مرضی،اگر آپ کچرا جلانا چاہیں تو آپکی مرضی خوش آئند بات یہ ہے کہ جلانے والا میٹیرئل وہی رہے گا لیکن اینٹوں کی کوالٹی زگ زیگ کی وجہ بہتر ضرور ہو جاتی ہے..3..اس بارے میں سوچا گیا کہ اپنی لیبر کو تربیت کیسے فراہم کی جائے؟اسکا حل یہ نکلا کہ پنجاب کے ہر ضلع میں کوئی نا کوئی زگ زیگ بھٹہ چل رہا ہے ..ہم نے اپنا بھرائی والا مستری اور جلائی والا مستری زگ زیگ بھٹے پر سیکھنے کے لیے بھیجا اور صرف چند دنوں میں وہ اپنا کام کرنے کے قابل ہو گئے..غرض یہ کہ زگ زیگ کو اپنانے میں پہلے جو مسائل تھے وہ کافی حد تک رفع اور آسان ہو چکے ہیں..4.پھر اس بات کی تصدیق کی گئی کہ زگ زیگ کے لیے لازما" گولائیوں کو چورس کرنا پڑتا ہے تو پتہ چلا کہ ایسا کرنا بھی ضروری نہیں بلکہ آگ چورس کے بجائے گولائی میں آسانی سے گزر جاتی ہے..ہم نے اپنے مطالعے کے دوران ہر چیز کو ملحوظ خاطر رکھا غرض یہ کہ جاننے کی کوشش کی کہ زگ زیگ اتنی اچھی ٹیکنالوجی ہے تو لوگوں نے آخر نقصان کیوں کیے...پتہ چلا کہ زگ زیگ بھٹے بھی مختلف تجربات کے بعد اس مرحلے پر پہنچے ہیں..مطلب شروع میں جن لوگوں نے سوچا کہ بجلی یا سولر کی پریشانی سے بچا جائے اور نیچرل ڈرافٹ والے زگ زیگ بھٹوں پر جایا جائے وہ لوگ نقصان میں رہے..لمبی چمنی یعنی نیچرل زگ زیگ والے بہت کم لوگ کامیاب ہوئے ہیں زیادہ تر لوگ نقصانات کر کے زگ زیگ کی مخالفت شروع کر چکے..اس کے بعد بلور کا آپشن بچتا ہے..بلور میں بھی چند چیزوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے..پنکھے والے بلور سے اجتناب کرنا چاہیے.ہمیشہ روٹر سسٹم کے بلور کو ترجیع دینی چاہیے.پنکھے والا بلور بہتر رزلٹ دینے سے قاصر رہتا ہے.لب لباب یہ کہ زگ زیگ کو اپناتے وقت لمبی چمنی اور پنکھے والے بلور سے دور رہ کر نقصان سے بچا جا سکتا ہے.یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تحقیق اور تحریر میری زاتی رائے ہے لازمی نہیں سب اس سے متفق ہوں ہم ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا بھٹہ زگ زیگ پر کنورٹ کر چکے اور یکم دسمبر سے آگ بھی دے چکے..شاورنگ سسٹم کازگ زیگ سے تقابلی جائزہ بھی کیا جا سکتا ہے لیکن اسکا اور وقت مقرر کریں گے مختصر عرض یہ ہے کہ اگر عدالت سے دیگر آپشنز پر اجازت مل گئی تو بھی زگ زیگ(بلور) باقی آپشنز سے بہتر ہے میری نظر میں ، اور ضروری نہیں ہر کوئی میری بات سے متفق ہو. کیونکہ انتہائی معمولی خرچے سے زگ زیگ پر منتقل ہوا جا سکتا ہے.جبکہ بی ٹی کے کی نسبت کم میٹریئل اور بہتر کوالٹی اینٹ پلس پوائنٹ ہیں.بشرطیکہ سیکھا جائے, سیکھنے کا کوئی وقت،کوئی عمر اور کوئی حد مقرر نہیں ہوتی..انسان کو پریشانیوں سے بچنے اور جائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے بھی سیکھنے کا عمل اپنانا چاہیے...محمد عمران سیال..